حیدرآباد،اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ،انتظامیہ خاموش
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)چینی ،آٹا سمیت دیگر اشیا ضرورت کی قیمتوں ہوش رہا اضافہ انتظامیہ خواب خروش میں،غریب سفید پوش عوام کے لئے دو وقت کی روٹی بھی ناممکن ہوگئی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری ریٹ سے بھی زیادہ 50کلو کا بیگ 550روپے مہنگا ہولسیل مارکیٹ میں فروخت ہونے لگاجبکہ آٹے میں 36روپے فی کلو اضافہ ہوگیا ضلعی انتظامیہ نے بھی چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے غریب بے سہارا عوام کو مہنگائی کی چکی میں پسنے کیلئے بے یارومددگار چھوڑ دیا بتایا جاتا ہے کہ چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کی جانب سے 16 جولائی 2025 کو جاری نوٹیفکیشن محض ایک دکھاوا ثابت ہوا۔ کاغذوں پر تو مقررہ نرخ واضح ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ مارکیٹ کا کوئی دورہ تک نہیں کیا گیا شہریوں کا کہنا ہے کہ کمشنر ڈپٹی کمشنر اسسٹنٹ کمشنر اور وزیر خوراک صرف فوٹو سیشن اور نمائشی دوروں میں مصروف ہیں جبکہ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبتی جا رہی ہے بلیک مارکیٹ میں چینی من مانی قیمتوں پر فروخت ہو رہی ہے اور ذخیرہ اندوزوں کے ساتھ مبینہ سیٹنگ نے عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن بنا دی ہے عوامی حلقوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومتی نمائندے اپنے ہی جاری کردہ نوٹیفکیشن پر عمل درآمد نہیں کروا سکتے تو عوام کو دھوکے میں کیوں رکھا جا رہا ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا