پنجاب ،گزشتہ 3 ہفتوں میں 5 لاکھ سے زائد شہری لائسنسنگ سہولیات سے مستفید ہوئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 ستمبر2025ء) پنجاب بھر میں ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء میں تیزی،گزشتہ 3ہفتوں میں صوبہ بھر میں 5لاکھ سے زائد شہری لائسنسنگ سہولیات سے مستفید ہوئے۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک محمد وقاص نذیر عوامی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہر دم کوشاں ہیں ۔ گزشتہ 3ہفتوں میں1لاکھ 70ہزار سے زائد شہریوں نے لرننگ لائسنس بنوائے۔
گزشتہ 3ہفتوں میں1لاکھ 61ہزار سے زائد شہریوں نے ریگولر ڈرائیونگ لائسنس بنوائے۔رواں ماہ1لاکھ 66ہزار سے زائد شہریوں نے لرننگ ریگولر اور انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کروائی، گزشتہ 3ہفتوں میں 5ہزار 700سے ذائد شہریوں کو انٹر نیشنل ڈرائیونگ پرمٹ جاری کیے گئے، رواں ماہ 92ہزار سے زائد شہریوں نے گھر بیٹھے جدید ان لائن لائسنسنگ پورٹل سے استفادہ کیا۔(جاری ہے)
اس حوالے سے ڈی آئی جی ٹریفک محمد وقاص نذیر نے کہا کہ شہری ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے خدمت مراکز لائسنسنگ سینٹر آن لائن لائسنسنگ پورٹل سے فائدہ اٹھائیں،صوبہ بھر میں بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے والوں کیخلاف کریک ڈائون جاری ہے۔بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی و موٹر سائیکل چلانا جرم ہے، بھاری جرمانوں اور قانونی کاروائیوں سے بچنے کے لییشہری فوری اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں۔ حادثات کی روک تھام کیلئے شہری گاڑی چلانا سیکھیں لائسنس حاصل کریں اور پھر چلائیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سے زائد شہریوں نے ڈرائیونگ لائسنس
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔