اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ، مزید 55 افراد وائرس کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں ڈینگی کے کیسز میں تیز رفتار اضافہ ہورہا ہے، جس نے شہریوں کو ایک بار پھر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 31 مریضوں میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی، جن میں 22 دیہی اور 9 شہری علاقوں سے سامنے آئے۔
ڈینگی وائرس کے نئے کیسز کی تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بھارہ کہو سے 6، روات سے 4 اور ترائی سے 3 مریض سامنے آئے۔ اس کے علاوہ علی پور، سوہان، سہالہ، ترنول اور بی-17 سے دو دو، جی-8، جی-7، جی-14، ایف-7، ای-11، ایف-11، آئی-14 اور کورال سے ایک ایک مریض میں ڈینگی وائرس کی تشخیص کی گئی ہے ۔
محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ شہر میں رواں سال ڈینگی کے رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد بڑھ کر 720 تک جا پہنچی ہے، جن میں سے 20 مریض مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
دوسری جانب محکمہ صحت کے مطابق راولپنڈی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 23 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد جولائی سے اب تک صرف راولپنڈی میں رپورٹ ہونے والے مریضوں کی تعداد 511 تک پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں برس مجموعی طور پر 523 ڈینگی کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے 60 مریض اس وقت مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ گھروں اور قریبی مقامات پر ریزیڈول اسپرے مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ 2 ہزار سے زائد مقامات پر فوگنگ آپریشن بھی کیا گیا ہے۔ اس ماہ 16 ہزار 332 مثبت لاروا سائٹس کا خاتمہ کیا جا چکا ہے اور مجموعی طور پر 8 لاکھ 46 ہزار سے زائد انسدادِ ڈینگی سرگرمیاں انجام دی جا چکی ہیں۔
سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی ویکٹر کنٹرول ٹیمیں ہائی رسک علاقوں میں متحرک ہیں اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر جرمانے و قانونی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ محکمہ صحت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ پانی والے برتنوں، ٹینکوں اور کولرز کی باقاعدگی سے صفائی کریں تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش کو روکا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2026ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرونِ ملک سے صرف ویزہ اوور سٹے یعنی ویزہ کی مقررہ مدت سے زائد قیام کی بنیاد پر ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی شہریوں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے حکومتی عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی پاکستانی شہری کسی دوسرے ملک میں محض اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے یعنی اوور سٹے کی وجہ سے پاکستان واپس ڈی پورٹ کیا جاتا ہے، تو اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنا سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ محض ویزہ اوور سٹے کی بنیاد پر بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونا کسی بھی شہری کے بیرونِ ملک سفر کرنے اور وہاں روزگار حاصل کرنے کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز ہرگز نہیں بن سکتا۔(جاری ہے)
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت یا متعلقہ ادارے کسی بھی شہری کے سفر پر اس وقت تک پابندی عائد نہیں کر سکتے جب تک کہ اس کے خلاف کسی باقاعدہ سنگین جرم کا ثبوت نہ ہو، وہ ملک کے لیے کوئی سکیورٹی خدشہ نہ بن چکا ہو، یا اس کے خلاف کسی اور مجرمانہ سرگرمی کا ناقابلِ تردید ثبوت موجود نہ ہو۔
اہم خبر ، دوسرے ملک میں صرف اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے والے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے غیر قانونی قرار دے دیا " جب تک کوئی جرم ثابت نا ہو تب تک سفری پابندی عائد کرنا غیر آئینی غیر قانونی ہے " اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ pic.twitter.com/zbQ5TmsKcV
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) June 3, 2026 امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس فیصلے سے ان ہزاروں پاکستانیوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے جو نادانستگی میں یا مجبوری کے تحت بیرونِ ملک ویزے کی مدت ختم ہونے پر ڈی پورٹ کر دیئے جاتے تھے اور پاکستان پہنچنے پر ایف آئی اے یا پاسپورٹ حکام ان کا نام کنٹرول لسٹ میں ڈال کر ان کا پاسپورٹ بلاک کر دیتے تھے، جس سے ان کے دوبارہ بیرونِ ملک جانے کے تمام راستے بند ہو جاتے تھے، عدالت نے اب اس عمل کو قانون کے منافی قرار دے دیا ہے۔