پیرا فورس خواب کی تعبیر، قبضہ کیسز کا فیصلہ 90 روز میں ہوگا: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
پیرا فورس خواب کی تعبیر، قبضہ کیسز کا فیصلہ 90 روز میں ہوگا: مریم نواز WhatsAppFacebookTwitter 0 24 September, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ میرا پیرا فورس کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا، اب قبضہ کیسز کا فیصلہ 90 روز میں ہوگا۔پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی پاسنگ آٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ پاس آٹ ہونے والے نوجوانوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں، اللہ نے آپ کو اپنے وطن اورعوام کی خدمت کیلئے موقع دیا، آپ کے کندھوں پر پنجاب کے کروڑوں عوام کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وعدہ کرو ایک پیسہ رشوت کا نہیں لو گے، کاروباری افراد جائز منافع کمائیں، حکومت کی ریٹ لسٹ کے مطابق گندم آٹے کی قیمت یقینی بنانی ہے۔
مریم نواز نے کہا ہے کہ پیرا فورس کا قیام میرا خواب تھا جو شرمندہ تعبیر ہوا، آپ نے لوگوں کو ظلم سے بچانا اور انصاف دلانا ہے، بازاروں سے تجاوزات کے خاتمے پر لوگ خصوصا خواتین بہت خوش ہیں۔وزیراعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ پیرا فورس میں باصلاحیت خواتین شامل ہیں، عوام کو آسانیاں فراہم کرنا ہماری ترجیح ہے، پنجاب کے بہت سے اضلاع میں اس وقت جرائم کی شرح صفر ہے، عوام کی خدمت کے لیے ہم سب ایک پیج پر ہیں۔مریم نواز نے کہا ہے کہ سی سی ڈی نے جو امن قائم کیا اس کی مثال نہیں ملتی، میں سی سی ڈی کو شاباش دینا چاہتی ہوں، پنجاب میں ایسے اضلاع بھی ہیں جہاں زیرو کرائم ہے۔وزیراعلی پنجاب نے کہا ہے کہ جن اضلاع میں کرائم تھا وہاں اب لوگ کہتے ہیں امن ہوگیا ہے
، میرا خواب ہے پنجاب ماں بیٹیوں کیلئے محفوظ ترین جگہ بنے، بیواں اور یتیموں کی زمینوں پر قبضے کرنے والوں کے خلاف قانون لارہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ بیواں اور یتیموں کی زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کیخلاف خصوصی عدالتیں بنا رہے ہیں، خصوصی عدالتوں میں زمین پر قبضے سے متعلق کیس کا فیصلہ 90 دن میں ہو گا، قبضہ کرنے والے کو 10 سال سزا ہو گی۔قبل ازیں وزیراعلی مریم نواز نے پیرا فورس مارچ پاسٹ کا معائنہ کیا اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں میں اعزازات تقسیم کیے، ڈائریکٹر جنرل پیرا کی جانب سے مہمان خصوصی کو سووینئر بھی پیش کیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف پاکستان توانا آواز ہے،ذیشان نقوی جدہ :کازا دیورا ہوٹلز میں سعودی عرب کے 95ویں یومِ وطنی کی شاندار تقریب سیلاب زدگان کےلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام استعمال نہ کرنا غفلت کے مترادف ہوگا، آصفہ بھٹو برطانیہ نے پی آئی اے کو کارگو کے بعد مسافر پروازوں کی بھی اجازت دیدی آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی صورتحال، وفاقی حکومت کا مذاکرات میں معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ خلیج تعاون کونسل کا بڑا فیصلہ: اب ایک ویزے پر 6 خلیجی ممالک کا سفر کریں غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی ڈرون حملے، ویڈیوز سامنے آگئیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا ہے کہ کا فیصلہ 90 پیرا فورس
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :