وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے سی سی ڈی نے جس طرح امن و امان قائم کیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، زمینوں پر ناجائز قبضے چھڑانے کے لیے قانون سازی لا رہے ہیں۔

پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) فورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مریم نواز کا کہنا تھا پیرا فورس کا قیام میرا خواب تھا جو شرمندہ تعبیر ہوا، عوام کے لیے آسانیاں فراہم کرنا ہماری ترجیح ہے، بازاروں سے تجاوزات کے خاتمے پر لوگ خصوصا خواتین بہت خوش ہیں، پیرا فورس میں باصلاحیت خواتین شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا سی سی ڈی ڈپارٹمنٹ نے جو امن قائم کیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، پنجاب میں ایسے اضلاع بھی ہیں جہاں زیرو کرائم ہے، جن اضلاع میں کرائم تھا وہاں اب لوگ کہتے ہیں امن ہو گیا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا رشوت کی کمائی میں برکت نہیں ہے، جتنی تیزی سے رشوت کی کمائی آتی ہے اتنی تیزی سے چلی جاتی ہے، کاروباری افراد جائز منافع کمائیں، جب منافع جائز حدود سے باہر نکل جاتا ہے تو اسے روکنا میرا فرض ہے، حکومت کی ریٹ لسٹ کے مطابق گندم آٹے کی قیمت یقینی بنانی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ظلم سے بچانا اور انصاف دلانا ہے، میرا خواب ہے پنجاب ماں بیٹیوں کیلئے محفوظ ترین جگہ بنے، جن زمینوں پر قبضہ ہو جاتا ہے ان کے لیے الگ عدالتیں بنا رہے ہیں، خصوصی عدالتوں میں زمین پر قبضے سے متعلق کیس کا فیصلہ 90 دن میں ہو گا، بیواؤں اور یتیموں کی زمین پر قبضہ کرنے والے کو 10 سال سزا ہوگی۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن