اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر 1 لاکھ 58 ہزار پوائنٹس کی حد بحال
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج کاروبار کے آغاز پر تیزی دیکھی گئی اور ہنڈریڈ انڈیکس دوبارہ 1 لاکھ 58 ہزار پوائنٹس کی سطح پر بحال ہو گیا۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز تیزی کا رجحان رہا اور ٹریڈنگ کے آغاز پر ہی 100 انڈیکس 158 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا۔ مارکیٹ 858 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 158804 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں آج بھی اتار چڑھاؤ کا امکان ہے، گزشتہ روز کاروباری سیشن 390 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 157945 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جبکہ مارکیٹ میں 58 ارب 68 کروڑ روپے مالیت کے ایک ارب 52 کروڑ شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی۔
دوسری جانب گزشتہ روز کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی دیکھی گئی تھی۔ انٹر بینک میں امریکی ڈالر 3 پیسے کمی کے بعد 281 روپے 42 پیسے پر بند ہوا، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 5 پیسے سستا ہوکر 282 روپے 45 پیسے پر آگیا۔
کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں روپے کی قدر کا براہ راست انحصار زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں پر ہوگا۔ اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ حکومت روپے کو مصنوعی سہارا دینے کے بجائے مارکیٹ کے حقیقی تقاضوں کے مطابق شرح تبادلہ آگے بڑھا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹاک مارکیٹ میں
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔