پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کا رجحان برقرار رہا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس دورانِ کاروبار 900 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔

دوپہر 2 بجے تک بینچ مارک 100 انڈیکس 158,871.96 پر موجود تھا، جو 926.94 پوائنٹس یعنی 0.59 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟

دورانِ کاروبار کے ایس ای 100 انڈیکس نے 159,046.

60 کی بلند ترین سطح کو بھی چھوا۔

Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +1002.28 points (+0.63%) at midday trading. Index is at 158,947.31 and volume so far is 503.64 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/etrEUQo0YE

— Investify Pakistan (@investifypk) September 24, 2025

سرمایہ کاروں کی بھرپور خریداری کمرشل بینکس، سیمنٹ، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مینوفیکچرنگ کمپنیز، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری سیکٹر میں دیکھنے میں آئی۔

مثبت کارکردگی دکھانے والے اہم شیئرز میں این آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی، میزان بینک، نیشنل بینک اور یو بی ایل شامل رہے۔

واضح رہے کہ بدھ ہی کے روز حکومت پاکستان اور 18 بینکوں کے کنسورشیم کے درمیان بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے کے بحران سے نمٹنے کے لیے 1.225 کھرب روپے کے مالیاتی معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔

مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، انڈیکس پہلی مرتبہ 1,57,000 پوائنٹس سے تجاوز کرگیا

منگل کے روز بھی پی ایس ایکس مثبت اختتام پذیر ہوا تھا، اگرچہ کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، اس روز کے ایس ای 100 انڈیکس 390.36 پوائنٹس یعنی 0.25 فیصد اضافے کے بعد 157,945.03 پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر ایشیائی مارکیٹس بدھ کو دباؤ کا شکار رہیں، وال اسٹریٹ پر گراوٹ اور امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے مستقبل کی شرحِ سود کے حوالے سے غیر واضح بیانات کے باعث سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھے، ایشیائی حصص کی کارکردگی کمزور اقتصادی اعداد و شمار سے بھی متاثر ہوئی۔

ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک شیئرز کا وسیع انڈیکس صبح کے وقت 0.4 فیصد گر گیا، جب کہ امریکی اسٹاکس منفی زون میں بند ہوئے، ایس اینڈ پی 500 تین ہفتوں کی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ کے ساتھ 0.6 فیصد نیچے آیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں آف شور تیل و گیس کی تلاش، معیشت کے لیے گیم چینجر قرار

آسٹریلوی حصص میں ایک فیصد کمی دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ اگست میں توقع سے زیادہ مہنگائی رہی۔،امریکی اسٹاک فیوچرز تاہم مستحکم رہے۔

ایشیائی مارکیٹس رواں ماہ 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد کچھ سست روی کا شکار ہیں، لیکن اب بھی گزشتہ ایک سال کی بہترین ماہانہ کارکردگی کے لیے راہ پر گامزن ہیں۔

اس کی بڑی وجوہات ڈالر کی کمزوری، ٹیکنالوجی اسٹاکس میں تیزی اور فیڈرل ریزرو کی پالیسی میں نرمی کا دوبارہ آغاز ہے۔

جاپان کا نکی انڈیکس 0.5 فیصد گر گیا کیونکہ ستمبر میں مینوفیکچرنگ سرگرمی 6 ماہ کی سب سے زیادہ تیزی سے سکڑ گئی، جس کی بنیادی وجہ نئے آرڈرز میں کمی رہی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

100 انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج ریفائنری سیکٹر سیمنٹ شیئرز فرٹیلائزر کمرشل بینکس وال اسٹریٹ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 100 انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج فرٹیلائزر وال اسٹریٹ

پڑھیں:

پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز

صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں