سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کا کوئی جج اپنی ہی عدالت کے دوسرے جج کے خلاف نہ تو رٹ جاری کر سکتا ہے اور نہ ہی توہینِ عدالت کی کارروائی کرسکتا ہے۔ یہ اصول آئین اور عدالتی نظائر کے مطابق طے شدہ ہے۔

نذر عباس توہین عدالت کیس میں سابق ڈپٹی رجسٹرار کی انٹراکورٹ اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا ہے جو 11 صفحات پر مشتمل ہے اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا آئینی اور ریگولر کمیٹی میں شامل ججز کے خلاف توہینِ عدالت کارروائی ممکن ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس کردیا

عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز کو انتظامی امور میں استثنیٰ حاصل ہے اور انہیں اندرونی و بیرونی مداخلت سے تحفظ دیا گیا ہے۔

فیصلے کے مطابق ’یہ بات طے ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا جج اسی عدالت کے دوسرے جج کے سامنے جوابدہ نہیں۔‘

فیصلے میں کہا گیا کہ محمد اکرام چوہدری کیس کے نظیر فیصلے کے مطابق ججز کے خلاف کارروائی ممکن نہیں، اور آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کے علاوہ کسی اور فورم پر جج کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

مزید پڑھیں: توہینِ عدالت کی کارروائی ہوئی تو بابر اعوان، فیصل چوہدری کیخلاف ہو گی: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ عدلیہ جمہوری ریاست میں قانون کی حکمرانی کے محافظ کے طور پر بنیادی ستون ہے، اس لیے ججز کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں آزاد اور غیر جانبدار رہنے کے لیے مکمل تحفظ دیا جانا ضروری ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر اور آئینی بنچ کمیٹی کے ارکان کو توہینِ عدالت کا نوٹس برقرار نہیں رہ سکتا۔

یاد رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں بینچ نے عدالتی حکم کے باوجود کیس مقرر نہ کرنے پر توہین عدالت کارروائی شروع کی تھی، جس کے خلاف سابق ڈپٹی رجسٹرار نے انٹراکورٹ اپیل دائر کی تھی۔ اس اپیل پر 6 رکنی بینچ نے توہینِ عدالت کارروائی ختم کر دی تھی، اور اب تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

توہین عدالت جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ محمد اکرام چوہدری کیس نذر عباس توہین عدالت کیس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: توہین عدالت جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ محمد اکرام چوہدری کیس نذر عباس توہین عدالت کیس عدالت کارروائی توہین عدالت سپریم کورٹ عدالت کی عدالت کا کے خلاف

پڑھیں:

کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار

کراچی:

شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔

ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ