data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(نمائندہ جسارت) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے کئی اضلاع میں جرائم کی شرح صفر ہونے کا دعویٰ کر دیا۔لاہور میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جرائم میں کمی کی وجہ پولیس کی بہترین کارکردگی کو قرار دیا اور کہا کہ کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے جس طرح امن قائم کیا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، پورے پولیس ڈپارٹمنٹ کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ کئی ایسے اضلاع ہیں جہاں یومیہ 100 جرائم ہوتے تھے، اب صفر شرح ہے، کئی کئی دن بعد کوئی ایک کیس رپورٹ ہوتا ہے، لوگ کہتے ہیں اب ہم گھر سے نکلتے ہیں تو سکون سے نکلتے ہیں، خواتین کے خلاف جرائم بالکل برداشت نہیں کرسکتے، خواتین کی حرمت پر انگلی اٹھانے والا اپنے انجام کو پہنچتا ہے اور توبہ کرتا دکھائی دیتا ہے، میرا خواب پنجاب کو خواتین کے لیے محفوظ جگہ بنانا ہے، اور ہم اپنے مقصد کے بہت قریب ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف نیا قانون لارہے ہیں، جس کے تحت قابضین کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی، خصوصی عدالتیں بنائیں گے جو 90 روز میں فیصلہ کریں گی، اور 10 سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی، بااثر افراد کے کمزور طبقے کی زمینوں پر قبضے ختم کروائیں گے، ایسے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ صوبے بھر میں جرائم کم ہونے پر میں پولیس اور کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں، انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس نے فورس کو بہترین انداز میں جرائم میں کمی کے لیے استعمال کیا ہے۔مریم نواز نے ٹریننگ مکمل کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے حلف کا پاس رکھیں، پاکستان کی عزت کریں اور عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے، کبھی بھی رشوت کا ایک پیسہ نہیں لیں گے، رشوت کی کمائی میں برکت نہیں، محنت کی کمائی بھلے کم ہو، اللہ پاک اس میں برکت دیتے ہیں، پیرا کو رشوت کی روایت توڑ دینا چاہیے، آج سب ہاتھ اٹھا کر وعدہ کریں کہ اپنے وطن کی حفاظت اور عوام کی خدمت کرو گے، ایک پیسہ کبھی رشوت نہیں لوگے۔انہوں نے کہا کہ آج آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہوگئے ہیں، جنہیں اللہ پاک نے ایک موقع دیا ہے تاکہ آپ پنجاب کے 15 کروڑ عوام کی خدمت کر سکیں، آپ نے صوبے کے عوام کو انصاف بھی دلوانا ہے، ان کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پولیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کو مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہوں، میرا خواب تھا کہ ایسی اتھارٹی بنے، جو خود پہنچ کر عوام کو مہنگائی اور ناجائز تجاوزات سے نجات دلوائے، پنجاب پہلا صوبہ بن گیا ہے جو عوام کی خدمت کے لیے اس طرح کا نظام تشکیل دے چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بازاروں اور راستوں پر تجاوزات قائم نہیں کی جانی چاہئیں، ہمارے اقدامات سے خواتین سمیت تمام خریدار خوش ہیں، جنہیں اب بازاروں میں ہراسگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔مریم نواز نے پیرا کے قیام کو گڈ گورننس کی مثال قرار دیا اور بتایا کہ جب میں ٹوکیو میں تھی تو معلوم ہوا، گندم اور آٹا اچانک مہنگا ہوگیا ہے، ذخیرہ اندوزی شروع ہوگئی ہے، قیمت 4 ہزار روپے تک جاپہنچی، میں نے آتے ہی پیرا اور محکمہ خوراک کو ہدایات دیں تو قیمت آج پھر 3 ہزار 100 روپے پر آچکی ہے۔مریم نواز نے کہا کہ پیرا کے جوانوں اور تمام عملے نے سیلاب میں عوام کے انخلا اور ریلیف کے لیے جس طرح کردار ادا کیا ہے، اس سے مجھے لگا کہ سب نے ایک ہوکر عوام کی خدمت کی، اس سب کے لیے میں پیرا اور تمام محکموں کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی پاسنگ آئوٹ پریڈ کا معائنہ کررہی ہیں

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عوام کی خدمت مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان