ایس ایس جی سی کی مبینہ کرپشن‘اووربلنگ‘بدنظمی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کی کارکردگی ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی۔ گیس بلوں کی ترسیل ٹھیکے پر دینے کے باوجود ٹھیکیدار اور اس کا عملہ کئی کئی ماہ سے صارفین تک بل پہنچانے میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث شہری ذہنی اذیت اور معاشی نقصان کا شکار ہیں۔اورنگی ٹاؤن کے رہائشی سید ایوب الحسن نے کمپنی کے ایم ڈی کو جمع کرائی گئی درخواست میں شکایت کی ہے کہ انہیں کئی ماہ سے گیس کے بل موصول نہیں ہوئے۔ بل نہ ملنے کی وجہ سے صارفین کو بروقت ادائیگی نہ کرنے پر 10 فیصد اضافی ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ گیس صارفین نے الزام لگایا ہے کہ انہیں حالیہ دنوں میں اضافی اور ایوریج بل بھیجے جا رہے ہیں۔ جب متاثرین نے اس بابت کمپنی سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ آپ کے بل پر اضافی چارجز عائد کئے گئے ہیں۔ شہریوں نے اس فیصلے کو عوام پر نیا معاشی بوجھ اور غیر قانونی ہتھکنڈہ قرار دیا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ SSGC کے خلاف سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔گزشتہ برس بھی اوور بلنگ اور جعلی ریڈنگ کے کیسز پر شہری عدالتوں اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے دروازے کھٹکھٹا چکے ہیں، مگر کمپنی انتظامیہ نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ اس مہنگائی کے دور میں اضافی بل بھرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی کٹوتی عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی بھی کے الیکٹرک کی طرز پر ایورج بلنگ اور ناجائز ٹیکسز کے ذریعے صارفین کو لوٹنے کے حربے آزما رہی ہے۔ گیس کمپنی کے اس رویے سے یہ تاثر مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ ادارہ جان بوجھ کر صارفین کو مشکلات میں مبتلا کر کے ناجائز منافع کما رہا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور ریگولیٹری اتھارٹیز فوری نوٹس لیتے ہوئے سوئی سدرن کی مبینہ کرپشن، اوور بلنگ اور بدنظمی کی شفاف تحقیقات کریں، ورنہ عوامی غصہ شدید احتجاج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔