زیلنسکی اور الجولانی کی ایک دوسرے کو گلے لگا نے کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
تعلقات کی بحالی کے لیے تیاریاں 30 جون 2022 کو یوکرین کی جانب سے شام کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے بعد سامنے آئیں۔ یہ کارروائی دمشق کی جانب سے ڈونیٹسک اور لوہانسک جمہوریہ کی یوکرین سے آزادی کو تسلیم کرنے کے بعد کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ یوکرین کے صدر اور دمشق پر قابض مسلح باغیوں کے رہنما نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ملاقات کی اور سفارتی تعلقات کی بحالی کے ایک بیان پر دستخط کیے ہیں۔ یوکرائنی صدر نے ملاقات کے بارے میں پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے یوکرین اور شام کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کی دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔ زیلنسکی اور الجولانی کی جانب سے تعلقات کی بحالی کے لیے تیاریاں 30 جون 2022 کو یوکرین کی جانب سے شام کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے بعد سامنے آئیں۔ یہ کارروائی دمشق کی جانب سے ڈونیٹسک اور لوہانسک جمہوریہ کی یوکرین سے آزادی کو تسلیم کرنے کے بعد کی گئی۔
انہوں نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ آج یوکرین اور شام نے سفارتی تعلقات کی بحالی سے متعلق ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ہم اس اہم قدم کا خیرمقدم کرتے ہیں اور استحکام کے لئے شامی عوام کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ زیلنسکی نے مزید کہا کہ شام کے صدر احمد الشرع کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران، ہم نے تعاون کو فروغ دینے ، دونوں ممالک کو درپیش سلامتی کے خطرات اور ان کا مقابلہ کرنے کی اہمیت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا، ہم نے باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر اپنے تعلقات استوار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تعلقات کی بحالی کرنے کے بعد کی جانب سے شام کے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔