20 سے 35 لاکھ تک قرضہ : اپنا گھر بنانے کے خواہشمند افراد کیلیے بڑی خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
اپنا گھر بنانے کے خواہشمند افراد کیلیے بڑی خوشخبری آگئی ، جس کے تحت شہری 20 سے 35 لاکھ تک قرضہ حاصل کرسکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق عوام کو پہلی بار گھر کے حصول میں مدد دینے کے لیے ’’مارک اپ سبسڈی اور رسک شیئرنگ اسکیم‘‘ کے تحت میرا گھر میرا آشیانہ پروگرام متعارف کرادیا۔
اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے باقاعدہ سرکلر جاری کرتے ہوئے اسکیم کی تفصیلات فراہم جاری کردی ۔
اسکیم کے تحت شہری 20 سال تک کی مدت کے لیے معقول مارک اپ پر قرض حاصل کر سکیں گے۔
اسٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکس، اسلامی بینکس اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی برانچ نیٹ ورک اور دیگر ذرائع کے ذریعے اس اسکیم کو فروغ دیں۔
سکیم کا مقصد زیادہ سے زیادہ شہریوں کو سہولت دینا ہے، اس لیے آسان شرائط رکھی گئی ہیں، پاکستانی شہری جن کے پاس کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ہے اور جو پہلی بار گھر کے مالک بننا چاہتے ہیں، اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ درخواست گزار کے نام پر پہلے سے کوئی گھر موجود نہیں ہونا چاہیے۔
قرضہ درج ذیل مقاصد کے لیے حاصل کیا جا سکتا ہے
نیا گھر یا فلیٹ خریدنے کے لیے
پہلے سے موجود پلاٹ پر گھر تعمیر کرنے کے لیے
پلاٹ خریدنے اور اس پر گھر بنانے کے لیے
قرضہ زیادہ سے زیادہ 5 مرلہ کے گھر یا 1360 اسکوائر فٹ تک کے فلیٹ/اپارٹمنٹ کے لیے دیا جائے گا۔
سٹیٹ بینک نے قرض کے دو درجے مقرر کیے ہیں
پہلا درجے میں 20 لاکھ روپے تک کا قرض
دوسرے درجے میں 20 لاکھ روپے سے زائد اور ساڑھے 35 لاکھ روپے تک کا قرض
زیادہ سے زیادہ 20 سال کے لیے قرض دیا جائے گا، جس میں 10 سال تک سبسڈی شامل ہوگی۔
کوئی پروسیسنگ فیس یا پری پیمنٹ پینلٹی عائد نہیں ہوگی۔
لون ٹو ویلیو ریشو 90:10 ہوگا یعنی 90 فیصد قرض اور 10 فیصد ایکویٹی۔
سکیم کے تحت بینکوں کے پورٹ فولیو کے 10 فیصد حصے کو پہلے نقصان کی بنیاد پر کور کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم