data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارت کی مختلف ریاستیں حالیہ موسلا دھار بارشوں سے بری طرح متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات میں کم از کم 12 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

کولکتہ میں تمام ہلاکتیں بجلی کے کرنٹ لگنے سے ہوئیں۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ان واقعات کی ذمہ داری نجی بجلی کمپنی سی ای ایس سی لمیٹڈ پر عائد کی ہے۔ شدید بارش کے باعث شہر کی سڑکیں زیر آب آگئیں، ٹریفک جام ہوگیا جبکہ ٹرین اور میٹرو سروسز بھی شدید متاثر ہوئیں۔ بیشتر علاقوں میں بجلی اور انٹرنیٹ کی فراہمی منقطع رہی۔

موسمیاتی محکمے کے مطابق کولکتہ میں گزشتہ 39 برسوں میں اس نوعیت کی بارش ریکارڈ نہیں کی گئی۔ یکم سے 22 ستمبر کے دوران 178.

9 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ صرف ایک دن میں اوسطاً 247.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ کچھ مقامات پر یہ شرح 300 ملی میٹر سے بھی تجاوز کر گئی۔ اس سے قبل 1978 اور 1986 میں ستمبر کے دوران سب سے زیادہ 251 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

طوفانی بارش نے کولکتہ اور مضافاتی علاقوں میں گھروں اور عمارتوں میں پانی بھر دیا۔ ایئرپورٹ پر 11 پروازوں کی آمد اور 31 روانگیوں میں تاخیر ہوئی، جبکہ سیاسی جماعتوں نے اپنے تمام پروگرام ملتوی کر دیے۔

ادھر تلنگانہ میں بھی بارشوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے 30 ستمبر تک موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ منچریال، نرمل، نظام آباد، جیا شنکر بھوپال پلی، ملگ، نلگنڈہ، سوریا پیٹ، محبوب آباد، ورنگل، ہنمکنڈہ اور جنگاوں کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

جمعرات کو عادل آباد، آصف آباد، منچریال، نرمل، نظام آباد، پداپلی، جیا شنکر بھوپال پلی، ملگ، بھدرادری کتہ گوڑم، محبوب آباد، ورنگل اور ہنمکنڈہ میں بارش کا امکان ہے، جبکہ جمعہ کے روز نرمل، نظام آباد، وقار آباد، سنگاریڈی، میدک، کاماریڈی اور محبوب نگر میں انتہائی شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ویب ڈیسک

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ملی میٹر کی گئی

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • کراچی سمیت ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے