گندم درآمد کا حکومتی اعلان قابل تشویش ہے، چوہدری ذوالفقار اولکھ
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (کامرس ڈیسک) مرکزی کسان لیگ کے چیئرمین چوہدری ذوالفقار علی اولکھ اور صدر اشفاق ورک نے وفاقی وزیر خوراک رانا تنویر کی جانب سے آئندہ سال ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کی گندم درآمد کرنے کے اعلان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رہنماوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں گندم کی درآمد کا فیصلہ نہ صرف کسانوں کی محنت بلکہ ملکی زرعی صلاحیت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی برسوں سے گندم کی امدادی قیمت بروقت مقرر نہ کرنے کے باعث کسان شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ مرکزی کسان لیگ کے رہنماوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے وہ ہیں جہاں گندم کی کاشت ہوتی ہے، جبکہ گندم کی بوائی 15 اکتوبر سے شروع ہو رہی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت فی الفور گندم کی امدادی قیمت 4000 روپے فی من مقرر کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ معیاری بیج، کھاد، اور پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف موثر اقدامات کیے جائیں۔ ان پالیسیوں پر عمل درآمد کر کے پاکستان نہ صرف گندم میں خودکفیل ہو سکتا ہے بلکہ خطے میں گندم برآمد کرنے والے ممالک کی صف میں بھی شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت زرعی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور کسانوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ اس مقصد کے لیے فوری ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے، سیلاب متاثرہ کسانوں کے کم از کم تین ماہ کے بجلی کے بل معاف کیے جائیں اور گندم کی کاشت کے لیے سبسڈی فراہم کی جائے تاکہ بہتر پیداوار ممکن ہو سکے اور ملک ممکنہ غذائی بحران سے محفوظ رہ سکے۔رہنماوں نے خبردار کیا کہ گندم کی درآمد پر انحصار ملکی معیشت اور قیمتی زرمبادلہ دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اگر حکومت نے بروقت کسان دوست پالیسیاں نہ اپنائیں تو کسان اپنی بقا کی جنگ سڑکوں پر لڑنے پر مجبور ہوں گے۔ مرکزی کسان لیگ نے واضح کیا کہ وہ ہر سطح پر کسانوں کے حقوق کی ترجمانی کرے گی اور ملکی کسانوں کو کسی صورت نظرانداز نہیں ہونے دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گندم کی
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔