اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد کے تنازعات کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اسلام آباد(خبر نگار خصوصی ) نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اوور سیز پاکستانیوں کی جائیداد کے تنازعات کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جارہی ہیں۔ نیویارک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 126 ممالک کے شہریوں کیلئے ویزا پرایئر ٹو ارائیول کیٹیگری متعارف کرائی، حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے مزید اقدامات کیلئے بھی پرعزم ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اوور سیز کو ایسی سہولتیں ضرور ملنی چاہئیں جو پاکستان کیلئے ا ن کی خدمات کے برابر ہوں، بیرون ملک مقیم پاکستانی عالمی سطح پر پاکستان کی توانا آواز ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے مشنز بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اصلاحات کا فائدہ پہنچانے کے لئے کام کر رہے ہیں، دنیا بھر میں اپنے سفارتی مشنز کی تزین و آرائش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اوور سیز کے لئے کی گئی اہم اصلاحات میں سے ایک انہیں فوری انصاف کی فراہمی ہے، اوور سیز پاکستانیوں کو بذریعہ ویڈیو لنک شہادت ریکارڈ کرانے کی سہولت ہو گی، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مقدمات کی پیروی کیلئے پاکستان واپسی کی ضرورت نہیں ہو گی۔ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ درخواستیں اور ضروری دستاویزات آن لائن جمع کرائی جاسکیں گے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ایف بی آر کی جانب سے بطور فائلرز تسلیم کیا جائے گا۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ فائلرز تسلیم ہونے پر اوورسیز کے لیے بینکنگ اور کاروباری معاملات آسان ہوجائیں گے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بچوں کے لیے جامعات اور میڈیکل کالجز میں کوٹہ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب اور بلوچستان میں بورڈ آف ریوینیو نے اوورسیز سہولت مراکز قائم کیے ہیں، ہوائی اڈوں پر گرین چینل کی سہولت کو دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پاکستانیوں کو اسحاق ڈار اوور سیز نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔