ٹریفک پولیس کی نگرانی میں نوجوان کی خطرناک ون ویلنگ، ’یہ کوئی غریب کرتا تو جیل میں بیٹھا ہوتا‘
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ٹریفک پولیس اہلکار کی قیادت میں جاری بائیک ریلی کے دوران ایک نوجوان بغیر ہیلمٹ کے بائیک چلاتے ہوئے خطرناک انداز میں ون ویلنگ کرتا نظر آ رہا ہے۔ جس پر صارفین کی جانب سے خوب تنقید کی جا رہی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہا ہے جبکہ اس دوران ٹریفک پولیس اہلکار بھی اس کے ساتھ موجود ہے۔
صارفین نے اس حرکت کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی لاپرواہی سڑکوں پر قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی پر نوجوان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ٹریفک پولیس کے پروٹوکول میں ہی ون ویلنگ کی جا رہی ہے۔ سید داؤد ہاشمی کہتے ہیں کہ اگر یہی عام آدمی ہیلمٹ کے بغیر جا رہا ہوتا تو کہتے 2000 کا چالان بھریں لیکن یہ نوجوان بغیر ہیلمٹ کے ون ویلنگ کر رہا ہے اور ٹریفک پولیس اہلکار خود اس کا راستہ کلیئر کر رہا ہے۔
صادق یوسف نے کہا کہ اس کو کہتے ہیں قانون کی سرپرستی میں قانون کی خلاف ورزی اور اگر یہی سب کوئی غریب کرتا تو وہ جیل میں بیٹھا ہوتا۔ ایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں قانون صرف غریب کے لیے ہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ غریب ون ویلنگ کرے تو پرچہ اور اگر امیر کرے تو پروٹوکول۔ جبکہ کئی صارف ایسے بھی تھے جو ون ویلنگ کرتے ہوئے نوجوان کو ہیلمٹ پہننے کا مشورہ دیتے نظر آئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹریفک پولیس وائرل ویڈیو ون ویلنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹریفک پولیس وائرل ویڈیو ون ویلنگ ٹریفک پولیس ون ویلنگ رہا ہے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :