WE News:
2026-07-24@10:23:34 GMT

سندھ میں کانگو وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 6ہوگئی

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

سندھ میں کانگو وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 6ہوگئی

سندھ کے محکمہ صحت کے مطابق شہر کے علاقے ملیر میں ایک شخص کانگو وائرس کے باعث جاں بحق ہوگیا، جس کے بعد رواں سال کراچی میں اس مرض سے ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے جبکہ پورے سندھ میں یہ تعداد 6ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں کانگو وائرس سے پہلی ہلاکت رپورٹ

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 28 سالہ قصاب کا تعلق لانڈھی سے تھا۔ وہ 24 ستمبر کو بخار، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور منہ و مقعد سے خون بہنے کی علامات کے ساتھ اسپتال لایا گیا جہاں چند ہی گھنٹوں بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔

لیبارٹری رپورٹ کے مطابق مریض میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

محکمہ صحت کی ترجمان میرَن یوسف نے بتایا کہ سندھ بھر میں کانگو وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 6 ہوچکی ہے۔ اس سے قبل 17 اور 18 جون کو کراچی کے ملیر میں، 30 جون کو ٹھٹھہ میں، جبکہ 17 جولائی اور 14 اگست کو دوبارہ ملیر میں ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: کانگو وائرس سے اموات کی تعداد 9 ہوگئی

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کانگو وائرس ایک خطرناک وبائی مرض ہے جو جانوروں کے خون اور ٹِک کے کاٹنے سے انسانوں کو لاحق ہوتا ہے۔ اس کی تاحال کوئی ویکسین دستیاب نہیں اور اموات کی شرح 10 سے 40 فیصد تک ہوسکتی ہے۔

یہ مرض قریبی رابطے کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص میں بھی منتقل ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ٹھٹہ سندھ کانگو وائرس کراچی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹھٹہ کانگو وائرس کراچی میں کانگو وائرس کانگو وائرس سے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن