سندھ میں کانگو وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 6ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
سندھ کے محکمہ صحت کے مطابق شہر کے علاقے ملیر میں ایک شخص کانگو وائرس کے باعث جاں بحق ہوگیا، جس کے بعد رواں سال کراچی میں اس مرض سے ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے جبکہ پورے سندھ میں یہ تعداد 6ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں کانگو وائرس سے پہلی ہلاکت رپورٹ
محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 28 سالہ قصاب کا تعلق لانڈھی سے تھا۔ وہ 24 ستمبر کو بخار، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور منہ و مقعد سے خون بہنے کی علامات کے ساتھ اسپتال لایا گیا جہاں چند ہی گھنٹوں بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔
لیبارٹری رپورٹ کے مطابق مریض میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
محکمہ صحت کی ترجمان میرَن یوسف نے بتایا کہ سندھ بھر میں کانگو وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 6 ہوچکی ہے۔ اس سے قبل 17 اور 18 جون کو کراچی کے ملیر میں، 30 جون کو ٹھٹھہ میں، جبکہ 17 جولائی اور 14 اگست کو دوبارہ ملیر میں ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: کانگو وائرس سے اموات کی تعداد 9 ہوگئی
عالمی ادارہ صحت کے مطابق کانگو وائرس ایک خطرناک وبائی مرض ہے جو جانوروں کے خون اور ٹِک کے کاٹنے سے انسانوں کو لاحق ہوتا ہے۔ اس کی تاحال کوئی ویکسین دستیاب نہیں اور اموات کی شرح 10 سے 40 فیصد تک ہوسکتی ہے۔
یہ مرض قریبی رابطے کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص میں بھی منتقل ہوسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ٹھٹہ سندھ کانگو وائرس کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹھٹہ کانگو وائرس کراچی میں کانگو وائرس کانگو وائرس سے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔