بھارتی وزارت داخلہ نے سونم وانگچک کی”این جی او“ پر پابندی عائد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
سرکار نے عوام کے ریاستی حقوق کیلئے جدوجہد پر ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی غیر سرکاری تنظیم، اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی وزارت داخلہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ کے عوام کے ریاستی حقوق کیلئے جدوجہد پر ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی غیر سرکاری تنظیم، اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق بدھ کو لداخ کے شہرلہہ میں اپنے سیاسی حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے لوگوں پر بھارتی فورسز کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک اور ستر سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ بھارتی وزارت داخلہ نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی این جی او کا لائسنس منسوخ کر دیا۔وانگچک نے دس ستمبر کو لداخ کی ریاستی حیثیت اور چھٹے شیڈول میں شمولیت کے مطالبے کے حق میں بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ بھارتی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں سونم وانگچک کو لداخ کی کشیدہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی وزارت داخلہ نے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔