اسلام آباد میں قائم آزاد اور غیر جانبدار تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف کانفلکٹ ریزولوشن (IICR) نے ایک تازہ تجزیاتی رپورٹ میں بلوچستان کی صورتِ حال اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ بلوچ کی متنازع نامزدگی کا بھارتی پراپیگنڈا؟

رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں جاری دہشتگردی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ میں بھی لڑی جا رہی ہے، جہاں انسانی حقوق کے نام پر دہشتگردی کو جواز دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بلوچستان: دہائیوں پر محیط دہشتگردی

بلوچستان طویل عرصے سے شدت پسند گروہوں کی پرتشدد مہم کا شکار رہا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) نے خود کو سیاسی جدوجہد کے پردے میں چھپایا لیکن ان کے اقدامات خالصتاً دہشتگردی کے ہیں۔

حالیہ برسوں میں بی ایل اے نے نہ صرف شہریوں کو نشانہ بنایا بلکہ بسوں سے مسافروں کو اتار کر قتل کیا، جافر ایکسپریس کو یرغمال بنایا اور اسکول بس پر حملہ کیا جس میں بچے جاں بحق ہوئے۔

ان واقعات نے عالمی سطح پر مذمت کو جنم دیا اور امریکہ نے بی ایل اے کو باضابطہ طور پر دہشتگرد تنظیم قرار دیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی: انسانی ہمدردی یا دہشتگردی کی حمایت؟

بلوچ یکجہتی کمیٹی 2018 میں سامنے آئی اور ابتدا میں سماجی خدمات کی آڑ میں مقبولیت حاصل کی۔

تاہم رپورٹ کے مطابق اس کی قیادت، خصوصاً ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، ریاستی حمایت کے باوجود دہشتگردی کی مذمت کرنے کے بجائے ہمیشہ ریاستی اداروں کو نشانہ بناتی رہی۔

یہ بھی پڑھیں:خان کو باہر بھیجنے کا پلان، شہباز شریف اور عاصم منیر عظیم لیڈر قرار، ماہرنگ بلوچ کی نوبل انعام کے لیے نامزدگی

بی وائی سی نے بی ایل اے کے حملوں پر خاموشی اختیار کی اور بعض مواقع پر دہشتگردوں کو شہید قرار دے کر ان کے جنازے بھی حاصل کرنے کی کوشش کی۔

لاپتا افراد کا بیانیہ اور حقائق

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بی وائی سی کی جانب سے ’لاپتا افراد‘ قرار دیے جانے والے کئی نوجوان بعد میں بی ایل اے کے دہشتگرد کے طور پر سامنے آئے۔

متعدد ایسے کیسز درج ہیں جن میں لاپتا قرار دیے گئے افراد خودکش حملوں میں مارے گئے۔ یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ’لاپتا افراد‘ کا بیانیہ دہشتگردی کو چھپانے اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

بین الاقوامی سطح پر پروپیگنڈا

بی وائی سی اور اس کے حامی بیرونِ ملک بھی سرگرم ہیں۔ یورپ اور امریکا میں احتجاجی مظاہرے کرکے پاکستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے، جبکہ دہشتگرد گروہوں کے جرائم کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ بلوچ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے والا ’یورگن واٹنے فریڈنس‘ کون ہے؟

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ پروپیگنڈا دہشتگردوں کو سفارتی تحفظ دیتا ہے اور پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی کی کاوشوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اختتامیہ: دہشتگردی کو دہشتگردی کہنا ضروری

IICR کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کا امن صرف دہشتگردوں کے خلاف کارروائی سے نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ جیتنے سے بھی وابستہ ہے۔

 بی وائی سی جیسے پلیٹ فارمز انسانی حقوق کے پردے میں دہشتگردوں کو سہارا دیتے ہیں، اس لیے ان کے بیانیے کو بے نقاب کرنا ناگزیر ہے۔

پاکستان کو چاہیے کہ عالمی سطح پر یہ واضح کرے کہ اصل انسانی حقوق کی خلاف ورزی عام شہریوں، مزدوروں اور طلبہ کا قتل ہے، جو بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے گروہ کرتے ہیں۔

انسٹیٹیوٹ اپنی رپورٹ میں زور دیا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے دہشتگردی کے ہتھیار اور پروپیگنڈا دونوں کو شکست دینا ہو گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

IICR آئی آئی سی آر انسٹی ٹیوٹ آف کانفلکٹ ریزولوشن انسٹیٹیوٹ آف کانفلکٹ ریزولوشن بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان بی وائی سی ماہرنگ بلوچ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان بی وائی سی ماہرنگ بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی ماہرنگ بلوچ بی وائی سی رپورٹ میں بی ایل اے کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق