کراچی:

ایشیا کپ فائنل کے بعد پریس کانفرنس میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے بھارتی صحافی کے انڈین ٹیم کو ٹرافی نہ دینے کے سوال پر کرارا جوب دیکر خاموش کرادیا۔

بھارتی صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ نے پہلے کبھی ایسا دیکھا ہے کہ چیمپئن ٹیم کو ٹورنامنٹ جیتنے کے باوجود ٹرافی نہ دی گئی ہو؟ اور کوئی ٹیم انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں اپنی پری میچ پریس کانفرنس منسوخ کرے اور پروٹوکول فالو نہ کرے؟

اس پر سلمان علی آغا نے جواب دیا کہ جو کچھ میدان میں ہوا اس کی شروعات ہم نے نہیں کی تھی، آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ابتدا کہاں سے ہوئی۔

بھارتی صحافی نے کہا کہ ہینڈ شیک کرنا رولز میں نہیں لکھا۔ جس پر سلمان علی آغا نے کہا کہ ٹرافی تو اے سی سی کا صدر ہی دیتا ہے، اگر آپ اُس سے ٹرافی لینے سے انکار کریں گے تو پھر ٹرافی کیسے ملے گی؟۔

Agha Salman says Team India disrespected the game of cricket and involved politics in it ????????????

Another brave statement from him.

What a man ????????♥️???? pic.twitter.com/0u532HvtSl

— Farid Khan (@_FaridKhan) September 28, 2025

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری پری میچ پریس کانفرنس کا نہ ہونا بھی انہی حالات کا تسلسل تھا، جو کچھ میدان میں ہوا، اسی کے بعد یہ سب ہوا۔ یہ بحث چھوڑ دیں کہ کس نے کیا، اصل بات یہ ہے کہ کھیل کے ساتھ غلط ہو رہا ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ کھیل کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔

ایک اور سوال پر سلمان علی آغا نے کہا کہ فی الحال ہم بھارت کے خلاف اچھی کرکٹ نہیں کھیل رہے، لیکن اگر مجموعی کارکردگی دیکھیں تو ہم اب بھی بھارت سے آگے ہیں۔ کرکٹ کا کھیل ادوار کے ساتھ بدلتا ہے، 90 کی دہائی میں ہم انہیں ہراتے تھے، ابھی ان کا وقت چل رہا ہے، جلد ایسا وقت آئے گا جب ہم انہیں ویسے ہی ہرانا شروع کر دیں گے جیسے وہ آج ہمیں ہرا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بطور کرکٹ فین میں ٹورنامنٹ کے دوران ہونے والے بعض واقعات کی حمایت نہیں کرتا۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ لوگ ہمیں رول ماڈل سمجھتے ہیں، اگر ہم خود ایسا رویہ اختیار کریں گے تو وہ کیا سیکھیں گے؟ اصل سوال ان سے ہونا چاہیے جنہوں نے یہ سب شروع کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سلمان علی آغا بھارتی صحافی پریس کانفرنس نے کہا کہ

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ