محسن نقوی ڈٹ گئے: ٹرافی لینی ہے تو لو، ورنہ جاؤ، – باسط علی کا ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
سابق کرکٹر باسط علی نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ٹیم کی ہٹ دھرمی کے باوجود محسن نقوی اپنی جگہ سے نہ ہٹے اور دو ٹوک انداز میں کہہ دیاکہ ٹرافی لینی ہے تو لو، ورنہ چلے جاؤ۔
ایشیا کپ 2025 کے فائنل کے بعد بھارتی ٹیم نے محسن نقوی سے وننگ ٹرافی لینے سے انکار کر دیا، جس پر تقریب تاخیر کا شکار ہوئی۔ محسن نقوی، جو اس وقت ایشین کرکٹ کونسل کے صدر بھی ہیں، نے بھارتی ٹیم کے دباؤ میں آنے سے انکار کر دیا۔
باسط علی کا کہنا تھا کہ اگر اب بھی آئی سی سی خاموش رہی تو بھارتی ٹیم کی بدمعاشی ایسے ہی جاری رہے گی۔ دوسری جانب کامران اکمل نے بھی بھارتی رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کو بچانے کے لیے اب تمام بورڈز کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرافی دینا ایشین کرکٹ کونسل کے صدر کی ذمہ داری ہے، اور محسن نقوی نے بالکل درست مؤقف اپنایا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی کرکٹ کے بڑے نام اس واقعے پر کیا ردِعمل دیتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی ٹیم محسن نقوی
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔