یکم اکتوبر سے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
ملک بھر میں یکم اکتوبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق قیمتوں میں 2 روپے سے لے کر ساڑھے 4 روپے فی لیٹر تک اضافہ ممکن ہے۔ اس حوالے سے پیٹرولیم انڈسٹری کی جانب سے تیار کردہ ورکنگ پیپر اوگرا کو بھجوا دیا گیا ہے۔
پیپر میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 48 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 65 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 76 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
اوگرا کل (30 ستمبر) کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق سمری حکومت کو بھجوائے گا، جس کے بعد وزارت خزانہ اور وزیراعظم کی مشاورت سے قیمتوں کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پیٹرولیم لیوی یا دیگر ٹیکسز میں اضافہ کرتی ہے تو قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جبکہ ٹیکسز میں کمی کی صورت میں معمولی ریلیف بھی ممکن ہے۔ انڈسٹری کی جانب سے دی گئی ورکنگ میں فی الحال ٹیکسز اور ڈالر ریٹ کو شامل نہیں کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔