ملک میں سیمنٹ کی ریٹیل قیمتوں میں گزشتہ ہفتے ملا جلا رجحان
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
ادارہ شماریات پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، 25 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں شمالی شہروں میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط قیمت 1382 روپے رہی، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 0.32 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔ اس سے قبل شمالی شہروں میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط قیمت 1387 روپے تھی۔
دوسری جانب، جنوبی شہروں میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط قیمت میں 0.
تفصیلات کے مطابق، گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط قیمت 1357 روپے، راولپنڈی میں 1361 روپے، گوجرانوالہ 1420 روپے، سیالکوٹ 1380 روپے، لاہور 1443 روپے، فیصل آباد 1380 روپے، سرگودھا 1370 روپے، ملتان 1416 روپے، بہاولپور 1450 روپے، پشاور 1350 روپے اور بنوں میں 1280 روپے ریکارڈ کی گئی۔
کراچی میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط قیمت 1367 روپے رہی، حیدرآباد میں 1427 روپے، سکھر 1500 روپے، لاڑکانہ 1407 روپے، کوئٹہ 1510 روپے اور خضدار میں 1483 روپے ریکارڈ ہوئے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سیمنٹ کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ جاری ہے، جس کا اثر تعمیراتی شعبے پر پڑ سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط قیمت
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔