پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
ملک میں یکم اکتوبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ہے۔
آئل انڈسٹری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اپنی ورکنگ مکمل کر لی۔
ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک روپیہ 97 پیسے سے 4 روپے 65 پیسے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں ایک روپیہ 97 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 2 روپے 48 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔
لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں ایک روپیہ 76 پیسے فی لیٹر جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 65 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔
اوگرا قیمتوں سے متعلق ورکنگ پیٹرولیم ڈویژن کے ذریعے وزارتِ خزانہ کو ارسال کرے گی۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد نئی قیمتوں سے متعلق وزارت خزانہ کل حتمی اعلان کرے گی۔
واضح رہے کہ 15 روز قبل حکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار رکھی تھی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 78 پیسے اضافہ کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافے کا امکان ہے پیسے فی لیٹر میں ایک
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔