Express News:
2026-07-24@02:52:17 GMT

ایران نے اسرائیل کے اہم ترین جاسوس کو پھانسی پر لٹکا دیا

اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT

ایران نے اپنے ہی شہری بہمن چوبی کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں پھانسی دیدی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی عدلیہ نے بہمن چوبی کو اسرائیل کے سب سے اہم جاسوسوں میں سے ایک اور اہم ترین قرار دیا۔

ایرانی عدلیہ کے ویب سائٹ میزان کے مطابق بہمن چوبی نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو ملک کی اہم ترین حساس معلومات فراہم کیں۔

عدالت کے بقول بہمن چوبی ایران میں درآمد ہونے والے الیکٹرانک آلات کے راستوں سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کرتا رہا تھا۔

جن کے باعث دشمن ملک کو ایرانی سرکاری ڈیٹا سینٹرز میں نقب اور اہم اداروں کے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔

ایرانی عدالت کے مطابق موساد کا بنیادی مقصد ان معلومات سے ایرانی سرکاری اداروں کے ڈیٹا بیس کو ہیک کرنا اور قومی سلامتی کو کمزور کرنا تھا۔

یہ کیس اس سے قبل نہ تو ایرانی میڈیا میں نمایاں ہوا اور نہ ہی انسانی حقوق کے کارکنان کو اس کے بارے میں علم تھا۔

سپریم کورٹ نے بہمن چوبی کی اپیل مسترد کر کے “فساد فی الارض” کے جرم میں دی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا۔

یہ پھانسی ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی جب اقوامِ متحدہ نے تہران پر ایٹمی پروگرام کے باعث دوبارہ پابندیاں عائد کی ہیں اور ایران نے اپنے “دشمنوں کو کڑی سزا دینے” کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ رواں برس جون میں اسرائیل نے ایران پر متعدد حملے کیے جن میں اہم ملٹری کمانڈرز اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

جس پر ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ملک میں چھپے اپنے اندرونی ایجنٹوں کے ذریعے ایرانی سلامتی کو نقصان پہنچایا۔

ان واقعات کے بعد سے صرف 3 ماہ میں ایران اب تک 9 مبینہ اسرائیلی جاسوسوں کو پھانسی دے چکا ہے۔

چند ہفتے قبل ایران نے بابک شہبازی کو بھی اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دی تھی۔

تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں نے دعویٰ کیا کہ شہبازی کو تشدد کے ذریعے جھوٹا اعتراف کروایا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے صرف 2025 میں اب تک ایک ہزار سے زائد قیدیوں کو پھانسی دی ہے جو 1988 کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیل کے بہمن چوبی ایران نے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم