ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے میجر جنرل اور سپریم لیڈر کے مشیر رحیم صفوی نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک مثبت پیشرفت ہے اور اگر ایران بھی اس میں شامل ہو جائے تو یہ خطے کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ اور خطے کی سیاست پر اثرات

ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحیم صفوی کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کو اپنے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کا خطے میں اثر و رسوخ کم ہوتا جا رہا ہے اور اب وہ اپنی توجہ ایشیا پیسیفک خطے کی طرف منتقل کر رہا ہے، ایسے میں وقت آ گیا ہے کہ ایک علاقائی اسلامی سکیورٹی بلاک کی تشکیل پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تاکہ خطے میں استحکام اور خودمختاری کو یقینی بنایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، لڑائیوں کا خیال بھی شاید اب نہ آئے

یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے اعلامیے میں واضح کیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسلامک اتحاد ایران پاکستان دفاعی معاہدہ سعودی عرب عرب ممالک.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلامک اتحاد ایران پاکستان دفاعی معاہدہ عرب ممالک دفاعی معاہدہ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل