سعودی عرب کے بعد کئی ممالک پاکستان سے دفاعی معاہدے کے خواہشمند ہیں، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
سعودی عرب کے بعد کئی ممالک پاکستان سے دفاعی معاہدے کے خواہشمند ہیں، اسحاق ڈار WhatsAppFacebookTwitter 0 29 September, 2025 سب نیوز
لندن :نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے بعد کئی ممالک پاکستان سے دفاعی معاہدے کے خواہش مند ہیں۔
برطانوی دارالحکومت میں پاکستان ہائی کمیشن کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ برادر مملکت سعودی عرب کے بعد کئی دیگر ممالک بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کے خواہشمند ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت ثابت کر دی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ملک معاشی میدان میں بھی دنیا میں اپنی جگہ بنائے اور اقتصادی طاقت بن کر ابھرے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور اس پر کسی تیسرے ملک کو کوئی اعتراض نہیں۔ اس معاہدے کے بعد کئی ممالک نے پاکستان سے اسی نوعیت کے دفاعی تعاون کی خواہش ظاہر کی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی سرحدوں کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے بلکہ علاقائی امن کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ 17 ستمبر کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ریاض میں تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت اگر کسی ایک ملک پر جارحیت کی جاتی ہے تو اسے دونوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کو خطے میں تزویراتی توازن کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات اس بات کی علامت ہیں کہ ملک بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ بحال کر رہا ہے اور عسکری تعاون کے ذریعے نئے سفارتی اور معاشی دروازے کھولنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسٹاک مارکیٹ نے تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کا سنگ میل عبور کرلی اسٹاک مارکیٹ نے تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کا سنگ میل عبور کرلی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا کے وارنٹ گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ کا ضلعی انتظامیہ کونانبائیوں کےخلاف تادیبی کارروائی نہ کرنے کا حکم پاکستان ٹیم نے ایشیاکپ کے فائنل کی پوری فیس 7 مئی کو بھارتی حملے میں شہید ہونیوالوں کے نام کردی سپریم کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام کرنے کی اجازت دے دی جی ایچ کیو حملہ کیس؛ ویڈیو لنک ٹرائل کیخلاف درخواست پر عمران خان کو بڑا ریلیف نہ مل سکاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سعودی عرب کے بعد کئی کے بعد کئی ممالک دفاعی معاہدے کے پاکستان سے اسحاق ڈار نے کہا
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش