پاکستانی چاول کی صنعت ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، یوسف رضا گیلانی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی چاول کی صنعت ملک کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اور پائیدار زرعی پالیسیوں کے ذریعے اس سیکٹر کو مزید ترقی دی جائے گی۔
اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق مقامی ہوٹل میں رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام 17ویں ایکسپورٹ ٹرافی ایوارڈز تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے زرعی شعبے خصوصاً چاول کے کاشت کاروں اور برآمدکنندگان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ چاول پاکستان کی دوسری بڑی برآمدی جنس ہے جو گزشتہ مالی سال میں ملکی جی ڈی پی میں 0.
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بطور وزیر اعظم اپنے دور حکومت میں زرعی شعبے کے لیے بنیادیں مضبوط کی گئیں، جن میں کسانوں کے لیے یکساں ٹیکس پالیسی، معیاری بیج، کھاد اور آب پاشی کے نظام کی فراہمی کے اقدامات شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں پیداوار اور معیار میں اضافہ ہوا اور آج برآمدات میں ترقی اسی کا مظہر ہے، جنوبی پنجاب بھی چاول کی پیداوار اور کاشت کے رقبے میں نمایاں اضافہ نظر آرہا ہے جو خوش آئند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی باسمتی چاول اپنی خوشبو، ذائقے اور معیار کے باعث دنیا بھر میں مقبول ہے اور اس شہرت کو برقرار رکھنے کے لیے جدید کاشت کاری، تحقیقی سرمایہ کاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اقسام کی تیاری ناگزیر ہے۔
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ رواں سال آنے والے شدید سیلاب نے پنجاب سمیت زرعی زمینوں کو متاثر کیا ہے جس میں چاول کی فصلیں بھی شامل ہیں، ان نقصانات کے ازالے کے لیے حکومت، کسانوں اور برآمدکنندگان کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ زرعی شعبے میں پائیدار طریقہ کار اپنانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ وسائل آج کے لیے بھی کارآمد رہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ رہ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی چاول کی صنعت کے مستقبل کا دارومدار نوجوان کسانوں پر ہے جنہیں تربیت، ٹیکنالوجی اور رہنمائی کی فراہمی ضروری ہے، حکومت، پارلیمنٹ، صنعت اور کاشت کاروں کے باہمی تعاون سے پاکستان کی چاول کی برآمدات نئی بلندیوں کو پہنچ جائے گی۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کے چاول کا عالمی منڈی میں نمایاں مقام ہے اور اجتماعی محنت و اتحاد کے ذریعے ہم اپنے کسانوں اور ملک کے لیے مزید روشن مستقبل یقینی بنا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کی چاول کی یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ کہ پاکستان نے کہا کہ کے لیے ہے اور
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔