قومی اسمبلی کا اجلاس 10 اکتوبر تک چلانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
قومی اسمبلی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس سپیکر کی زیر صدارت ہوا، جس میں قومی اسمبلی کا اجلاس 10 اکتوبر تک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 2 اکتوبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ قومی اسمبلی کا اجلاس 10 اکتوبر تک چلانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا، جس میں قومی اسمبلی کا اجلاس 10 اکتوبر تک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 2 اکتوبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا جائیگا۔
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے سبب سیشن نہیں ہوگا، قومی اسمبلی کی تمام پارلیمانی جماعتوں کی مشاورت کے بعد متفقہ فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اجلاس کچھ دیر بعد سپیکر کی زیر صدارت شروع ہوگا، بزنس ایڈوائزری کونسل کے فیصلوں کا باضابطہ اعلان کچھ دیر تک کیا جائیگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔