نبی کریم ؐکا پیغام ہی انسانیت کی نجات کا واحد راستہ ہے، راشد نسیم
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور( نمائندہ جسارت)مرکزی رہنما جماعت اسلامی پاکستان راشد نسیم نے حیدرآباد کی جامع مسجد قبا اور مکی مسجد میں سیرت تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نبی کریم ؐ کا لایا ہوا نظامِ رحمت ہی آج انسانیت کے لیے واحد قابلِ عمل آپشن رہ گیا ہے۔ دنیا کے تمام انسانی ساختہ نظام دم توڑ چکے یا دم توڑنے کے قریب ہیں اور تاریخ کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز ہو چکی ہے۔راشد نسیم نے کہا کہ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ وہ وقت قریب ہے جس کی خبر نبی کریم ؐ نے احادیث مبارکہ میں دی تھی۔ انہوں نے قطر پر اسرائیلی حملے کو امت مسلمہ کے لیے بیداری کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ اس شر سے خیر یہ نکلی کہ مسلم دنیا متحد ہونے کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی مفاہمتی معاہدے کو عالم اسلام کے لیے خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ایران نے بھی اس معاہدے کا پرجوش خیر مقدم کیا ہے۔ راشد نسیم نے کہا کہ پاکستان کا عالمی مقام تیزی سے بلند ہو رہا ہے کیونکہ یہ ملک کلمے کی بنیاد پر رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں قائم ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ اس سے کوئی عظیم کام لینا چاہتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ دنیا میں صرف ایک ہی رہنما باقی رہ گیا ہے جس کی زندگی کا ہر پہلو محفوظ ہے — وہ نبی کریم ؐ کی ذات مبارکہ ہے۔ ان کا لایا ہوا نظامِ رحمت ہی انسانیت کے خلا کو پورا کر سکتا ہے، اور یہی نظام مستقبل قریب میں عالمی نظام کی حیثیت اختیار کرے گا۔امیر جماعت اسلامی حیدرآباد حافظ طاہر مجید اور قیم حیدرآباد حنیف شیخ بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔