پاکستان میں توانائی کے شعبے کا سب سے بڑا بحران گردشی قرضہ ہے جو ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گردشی قرضے کے خاتمے کی اسکیم کا آغاز، وزیر اعظم شہباز شریف کی نیویارک سے ورچوئل شرکت

ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجوہات بجلی کمپنیوں کی نااہلی، بجلی چوری، کم ریکوری اور حکومتی پالیسیوں کی کمزوریاں ہیں جس کے نتیجے میں ایمانداری سے اور بروقت بل ادا کرنے والے صارفین ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

لیکن حکومت کی جانب سے گردشی قرضے کو ختم کرنے کے لیے بینکوں سے معاہدہ کیا گیا ہے۔ وہ معاہدہ کیا ہے اور کتنا موثر ثابت ہوگا آئیے جانتے ہیں۔

حکومت اور بینکوں کا معاہدہ

حکومت ن گردشی قرضے کا دباؤ کم کرنے کے لیے مقامی بینکوں کے ساتھ 1.

225 کھرب روپے کے قرض کا معاہدہ کیا ہے جس میں 18 بینک شامل ہیں۔

اس رقم میں سے 659 ارب روپے پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (پی ایچ ایل) کے پرانے قرضے اتارنے پر خرچ ہوں گے جبکہ باقی رقم آئی پی پیز اور دیگر واجبات کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوگی۔

مزید پڑھیے: پاور سیکٹر کا گردشی قرض 2300 ارب روپے، اسمارٹ میٹرنگ کی طرف آنا ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف

یہ قرض 4 سے 6 سال میں واپس کیا جائے گا اور اس کی ادائیگی بجلی کے بلوں پر موجود ڈیٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس)  کے ذریعے کی جائے گی۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ صارفین پر نیا بوجھ نہیں ڈالا جا رہا البتہ موجودہ سرچارج 3.23 روپے فی یونٹ مزید 6 سال تک برقرار رہے گا۔حکومتی مؤقف یہ بھی ہے کہ یہ قرض رعایتی شرائط پر لیا گیا ہے تاکہ سود کی ادائیگی کا دباؤ کم ہو۔

بجلی کمپنیوں کی نااہلی نقصانات کی اصل وجہ ہے، خلیق کیانی

معاشی ماہر خلیق کیانی کا کہنا ہے کہ بجلی کمپنیوں کی نااہلی سے پیدا ہونے والے نقصانات یعنی ٹیکنیکل لوسز، بجلی چوری اور کم ریکوری ہی گردشی قرضے کی جڑ ہیں۔

خلیق کیانی نے کہا کہ حکومت اور بینکوں کے حالیہ معاہدے سے عوام کو براہِ راست کوئی ریلیف نہیں ملے گا بلکہ اس کی قیمت صارفین کو 3.23 روپے فی یونٹ اضافی سرچارج کی صورت میں آئندہ 6 سال تک ادا کرنی ہوگی۔

ملک میں 30 تا 40 فیصد بجلی چوری ہوجاتی ہے، راجہ کامران

توانائی امور کے ماہر راجہ کامران نے بتایا کہ پاکستان میں حکومت بجلی کی واحد خریدار ہے۔ یہ تمام نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) سے بجلی خرید کر سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے ذریعے وصول کرتی ہے۔ اس کے بعد بجلی این ٹی ڈی سی کے ذریعے ڈسکوز اور کے الیکٹرک تک پہنچتی ہے جہاں سے یہ صارفین کو فراہم کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کی بجلی بلوں میں ریلیف کی منظوری، کون سے صارفین کو کتنا فائدہ ہو گا؟

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پورے ملک میں یکساں ٹیرف پالیسی نافذ کر رکھی ہے جس کے تحت کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں صارف ایک ہی نرخ پر بجلی لیتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ جب کسی شہر یا علاقے میں بجلی چوری ہوتی ہے یا بل ادا نہیں کیے جاتے تو پورے نظام میں خلل پیدا ہوتا ہے۔راجہ کامران کے مطابق ملک میں 30 سے 40 فیصد بجلی چوری ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بجلی سسٹم سے نکل تو جاتی ہے مگر اس کی بلنگ نہیں ہوتی

انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح 10 سے 15 فیصد صارفین ایسے ہیں جو مہنگی بجلی کے باعث بل ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر 100 روپے کی بجلی فراہم کی جائے تو صرف 60 روپے واپس ملتے ہیں جبکہ باقی 40 روپے گردشی قرضے میں بدل جاتے ہیں۔

راجہ کامران کا کہنا ہے کہ جب ڈسکوز ریکوری مکمل نہیں کر پاتیں تو وہ سی پی پی اے کو رقم نہیں دیتیں اور یوں سی پی پی اے آئی پی پیز کو ادائیگی نہیں کر پاتا۔

یہ بھی پڑھیے: وفاقی حکومت کی بڑی کامیابی: 2 ہزار 600 ارب روپے کے قرضے مقررہ وقت سے پہلے ادا

انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کی عدم ادائیگی سے ان کے سپلائرز اور ادارے بھی متاثر ہوتے ہیں اور پورا نظام قرض کے جال میں پھنستا چلا جاتا ہے۔

راجہ کامران نے واضح کیا کہ ڈسکوز کی ناقص مینجمنٹ اور بجلی چوری روکنے میں ناکامی گردشی قرض کی سب سے بڑی وجہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ بجلی کی قیمت بار بار بڑھانی پڑتی ہے۔

معاہدہ وقتی سہارا ہے مسئلے کا مستقل حل نہیں، ماہرین

ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کا حالیہ معاہدہ وقتی سہارا تو ہے مگر مستقل حل نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ قرض کو آگے منتقل کرنے کا ایک طریقہ ہے جس سے فوری ڈیفالٹ کا خطرہ کم ہو جاتا ہے مگر بجلی چوری، ناقص ریکوری اور کمزور قانون سازی جیسے بنیادی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین اقتصادی جائزہ مذاکرات؛ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور گردشی قرض کے خاتمے پر زور

ماہرین کا کہنا ہے کہ گردشی قرض سے حقیقی طور پر جان چھڑانے کے لیے بجلی چوری کو جرم قرار دینا، بلوں کی وصولی کو یقینی بنانا اور ڈسکوز کی مینجمنٹ کو درست کرنا ناگزیر ہے بصورت دیگر یہ بحران بار بار ابھرتا رہے گا اور اس کا بوجھ صرف ایماندار صارفین پر ڈالا جاتا رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی پی پیز بجلی بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے خلیق کیانی راجہ کامران گردشی قرضے اور بجلی صارفین

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی پی پیز بجلی بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے خلیق کیانی راجہ کامران گردشی قرضے اور بجلی صارفین کا کہنا ہے کہ راجہ کامران خلیق کیانی آئی پی پیز بجلی چوری کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف