اسلام آباد میں ضبط شدہ ٹیمپرڈ 42 فیصد گاڑیاں ڈپٹی کمشنر آفس کے لیے مختص
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد کی جانب سے ضبط کی گئی ٹیمپرڈ چیسز والی 106 گاڑیوں میں سے مجموعی طور پر 49 گاڑیاں مختلف محکموں کے لیے مختص کی گئیں جبکہ 57 گاڑیوں کو ویئر ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے قومی اسمبلی کو فراہم کردہ جوابات کے مطابق سب سے زیادہ 21 گاڑیاں ڈپٹی کمشنر آفس اسلام آباد کے لیے مختص کی گئی ہیں۔
اس کے بعد سی ڈی اے کو 16 گاڑیاں جن میں سے سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول کو 10 گاڑیاں جبکہ سی ڈی اے انفورسمنٹ کو 6 گاڑیاں اور فوڈ اتھارٹی اسلام آباد کو 3 گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ اسلام آباد گاڑیوں کی فزیکل انسپکشن کرتا ہے اس دوران مشکوک اور ٹیمپرڈ گاڑیوں کوضبط کرنے کے بعد نیلام کردیا جاتا ہے۔
پاکستان موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (سیزر اینڈ ڈسپوزل آف موٹر وہیکل) رولز 2014 کے تحت، کٹ اینڈ ویلڈ اور ٹیمپرڈ چیسیز نمبر والی گاڑیوں کو قبضے میں لیا جاتا ہے تاہم نیلام نہیں کیا جاتا۔
وزارت داخلہ کے مطابق ٹیمپرڈ چیسیز نمبر والی گاڑیوں کو محکمہ ایکسائز کے ویئر ہاؤس منتقل کیا جاتا ہے یا سرکاری امور کے استعمال کے لیے کسی بھی سرکاری ادارے کے لیے مختص کردیا جاتا ہے۔
لیبر ڈیپارٹمنٹ کو 1 گاڑی، اے ڈی سی آر آفس کو 1 گاڑی، اے ڈی سی ایسٹ آفس کو 1 گاڑی، ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس کو 3 گاڑیاں، پروسیکیوشن آفس کو 1 گاڑی جبکہ ای ٹی او آفس کے لیے 3 گاڑیاں مختص کی گئی ہیں۔
محکمہ ایکسائز کی جانب سے ضبط گاڑیوں میں سے لینڈ کروزر، پراڈو، کرولا، سوک جیسے گاڑیوں کی بڑی تعداد محکموں کے لیے مختص کی گئیں جبکہ سوزوکی مہران، بولان، خیبر اور لینڈ کروزر کے پرانے ماڈل ویئر ہاؤس منتقل کر دیے گئے ہیں۔
وزارت داخلہ کو جمع کرائی گئی محکمہ ایکسائز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 5 برس کے دوران کسی افسر کو سپرداری پر کوئی گاڑی فراہم نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 34 ٹویوٹا کرولا گاڑیاں مختلف محکموں کے لیے مختص کی گئیں، ایک لینڈ کروزر 2005 ماڈل ای ٹی او آفس اور ایک لینڈ کروزر پراڈو سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول اور ایک لینڈ کروزر سی ڈی اے انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کے لیے مختص جبکہ 20 سوزوکی مہران اور خیبر جبکہ 11 ٹیوٹا کرولا گاڑیاں ویئر ہاؤس منتقل کی گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ بلڈنگ کنٹرول پاکستان موٹر وہیکل آرڈیننس ٹیمپرڈ گاڑیوں ڈپٹی کمشنر آفس سی ڈی اے محکمہ ایکسائز مشکوک ویئر ہاؤس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ بلڈنگ کنٹرول ٹیمپرڈ گاڑیوں ڈپٹی کمشنر آفس سی ڈی اے محکمہ ایکسائز مشکوک ویئر ہاؤس کے لیے مختص کی گئی محکمہ ایکسائز اسلام آباد لینڈ کروزر کی گئی ہیں ویئر ہاؤس گاڑیوں کو سی ڈی اے جاتا ہے آفس کو
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔