صدر ٹرمپ سے مذاکرات میں فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق کوئی اتفاق رائے بالکل نہیں ہوا، نیتن یاہو صدر ٹرمپ سے مذاکرات میں فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق کوئی اتفاق رائے بالکل نہیں ہوا، نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا۔

نیتن یاہو کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کل پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں ہوئی تھی۔

یروشلم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو نے پیر 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے اپنی ملاقات کے ایک دن بعد آج منگل کے روز واضح طور پر تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس امریکی اسرائیلی سربراہی ملاقات میں فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’بالکل نہیں۔ اور یہ بات مجوزہ معاہدے کی دستاویز میں بھی نہیں لکھی گئی۔ ایک بات پوری طرح واضح کر دی گئی تھی: ہم فلسطینی ریاست کے قیام کے سخت مخالف ہیں۔‘‘

غزہ کے زیادہ تر علاقوں میں اسرائیلی فوج موجود رہے گی، نیتن یاہو

امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کی پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پٹی میں جنگ بندی کے لیے جس امن منصوبے کا اعلان کیا تھا، اس کو بین الاقوامی سطح پر کافی زیادہ سراہا جا رہا ہے۔

بہت سے عرب ممالک اور یورپی یونین سمیت بین الاقوامی برادری نے اس تجویز پر عمل درآمد کے لیے اپنی طرف سے بھرپور تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔

تاہم اس منصوبے کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کی طرف سے دیے جانے والے بیانات غزہ کی جنگ میں ممکنہ فائر بندی کی راہ میں تاحال حائل رکاوٹوں کی طرف اشارہ بھی کرتے ہیں۔

ان میں سے ایک پہلو تو نیتن یاہو کا یہ بیان ہے کہ ان کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں فلسطینی ریاست کے قیام اور اس کو تسلیم کرنے سے متعلق سرے سے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ ان کا آج منگل ہی کے روز دیا جانے والا دوسرا بیان غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج کی آئندہ موجودگی سے متعلق ہے۔

نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کی حمایت تو کی ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے اب یہ بھی کہا ہے کہ ’’غزہ پٹی کے زیادہ تر حصوں میں اسرائیلی فوج آئندہ بھی موجود‘‘ رہے گی۔

غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے زائد

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر منگل 30 ستمبر کو پوسٹ کیے گئے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا، ’’ہم اب تمام یرغمالیوں کو واپس لائیں گے، زندہ اور بخیریت، جبکہ اسرائیلی فوج غزہ پٹی کے زیادہ تر حصوں میں موجود رہے گی۔

‘‘.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اتفاق رائے نہیں ہوا اسرائیلی فوج میں اسرائیلی نیتن یاہو نے غزہ پٹی کی صدر کے روز

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان