پشاور: وکلاء کا صوبہ بھر میں عدالتی بائیکاٹ، قتل اور پولیس تشدد کے خلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا بار کونسل کی کال پر صوبہ بھر کے وکلاء آج عدالتی بائیکاٹ کر رہے ہیں اور عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے۔ پشاور ہائی کورٹ میں بھی وکلاء کا عدالتی بائیکاٹ جاری ہے۔
وکلاء کے مطابق صوبہ میں وکلاء کے قتل اور پولیس تشدد کے واقعات میں ملوث عناصر ابھی تک گرفتار نہیں کیے گئے۔ چارسدہ میں نوجوان وکیل کے قتل میں ملوث ایس ایچ او کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن امین الرحمن یوسفزئی نے کہا کہ آئی جی پولیس نے دو دن کی ڈیڈ لائن دی ہے کہ وکلاء کے قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور محکمہ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کو نکالا جائے۔
امین الرحمٰن یوسفزئی نے کہا کہ اگر دو دن میں کارروائی نہ کی گئی تو آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔