شیخ نعیم قاسم کے مطابق اب جنگ ہوگی تو کربلائی جنگ ہوگی، ڈاکٹر صابر ابو مریم کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
بیروت میں اسلام ٹائمز کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ شہید حسن نصراللہ کی شہادت صرف اور لبنان کا نقصان نہیں بلکہ پوری عالم انسانیت کا نقصان ہے، آج حزب اللہ کی بدولت اسرائیل لبنان پر قبضہ کرنے سے قاصر ہے، اس لئے حزب اللہ کو اندرونی طور پر لبنان کی پارلیمان کے ذریعے الجھانے کی کوششیں ہورہی ہیں، شیخ نعیم قاسم نے بھی کہہ دیا ہے کہ اب جنگ ہوگی تو کربلائی جنگ ہوگی۔ متعلقہ فائیلیںڈاکٹر صابر ابو مریم پاکستان کے معروف محقق، تجزیہ کار، مصنف اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔ وہ بنیادی طور پر بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ہیں اور مختلف جامعات سے وابستہ رہ کر تدریسی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا شمار فلسطین کاز کے سرگرم ترین حامیوں میں کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صابر ابو مریم فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، آزادی اور انصاف کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرتے ہیں اور پاکستان میں فلسطین فاؤنڈیشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اکثر قومی و بین الاقوامی سیمینارز، کانفرنسز اور میڈیا مباحثوں میں فلسطین، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست سے متعلق اپنے تجزیات پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں قومی اخبارات و جرائد کے علاوہ بین الاقوامی جریدوں میں بھی شائع ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر صابر ابو مریم نے عالمی استعمار اور صیہونی ریاست کی پالیسیوں کو تحقیقی انداز میں بے نقاب کرنے پر اپنی علمی و فکری شناخت قائم کی ہے۔ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شہید مقاومت سید حسن نصراللہ کی پہلی برسی کے موقع پر بیروت میں شہید کی مرقد پر موجود اسلام ٹائمز کے نمائندے نادر بلوچ نے ڈاکٹر صابر ابومریم سے خصوصی انٹرویو کیا ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر صابر ابو مریم جنگ ہوگی
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔