ماہرِ معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کی کتاب “اسلامی بینکاری:غیرسودی یا سودی و استحصالی؟” شایع ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ممتاز ماہر معاشیات اور اور بینکار ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کی تازہ تصنیف ” اسلامی بینکاری: غیرسودی یا سودی و استحصالی ؟“ شائع ہوگئی ہے۔ یہ کتاب ایسے موقع پر شائع ہوئی ہے۔ جب 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت حکومت معیشت و بینکاری اور مالیاتی نظام سے 31 دسمبر 2027ء تک ربا (سود) کو ختم کرنے کی پابند ہے مگر اس ضمن میں مختلف طبقات کی طرف سے نہ صرف متعدد خدشات ، توقعات و شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے بلکہ بہت سے سوالات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ اس کتاب میں ان تمام امور کا احاطہ کیا گیا ہے اور ان سوالات کے جوابات بھی دیئے گئے ہیں ۔
کتاب اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس میں اسلامی نظام معیشت بشمول حرمت ربا و نظام زکوۃ کے بارے میں قرآنی احکامات کی روشنی میں رہنما اصول اور مقاصد شریعہ بیان کرنے کے ساتھ مستند اعداد و شمار کی روشنی میں پاکستانی معیشت کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یہی نہیں، روایتی سودی بینکوں اور اسلامی بینکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بینکوں کی کارکردگی کا تجزیہ ان اداروں کے سالانہ گوشواروں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹوں کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مغربی ممالک اور دوسرے غیر اسلامی ممالک میں بھی اسلامی بینکاری کا تیزی سے پھیلنا کوئی کامیابی نہیں ہے کیونکہ دنیا بھر میں اسلامی بینکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بینک سودی بینکوں کے نقش پا پر ہی بڑے پیمانے پر کاروبار کر کے اپنا منافع بڑھا رہے ہیں۔
کتاب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اوّل ، معیشت سے صرف سود کا خاتمہ کرنا قطعی نا کافی ہوگا اور دوم، اسلامی نظام معیشت و بینکاری کو شریعت کی روح کے مطابق نفاذ کرنا ہوگا چنانچہ ملکی و بیرونی اشرافیہ کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ہوگا ، مالیاتی و انٹلیکچوئل کر پشن پر ممکنہ حد تک قابو پانا ہوگا اور آئی ایم ایف کے پروگرام سے باہر آنا ہوگا۔
کتاب کے آخر میں 2027ء تک معیشت و بینکاری کے نظام سے سود کے خاتمے اور اسلامی نظام معیشت و بینکاری کے نفاذ کے لیے دو درجن قابل عمل سفارشات پیش کی گئی ہیں اور تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر ان سفارشات پر عمل نہ کیا گیا تو اسلامی بینکاری کے نام پر سودی نظام فروغ پاتا رہے گا۔ اس ضمن میں سورۃ البقرہ کی آیا278-279اور سورۃ المائدہ کی آیات 44 – 45 کا خصوصی طور پر حوالہ دیا گیا ہے۔ کتاب کا پیش لفظ ممتاز قانون دان جناب منیر اے ملک نے تحریر کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: معیشت و بینکاری اسلامی بینکاری بینکاری کے کیا گیا ہے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔