جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام آزاد کشمیر میں آج ہڑتال کا دوسرا روز ہے جس کے باعث کاروبار معطل ہونے کے ساتھ ساتھ نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے ہڑتال پر ہے جس کا آغاز گزشتہ روز ہوا۔ ہڑتال کے پہلے روز آزاد کشمیر بھر میں کاروبار زندگی معطل رہا، تاہم کچھ مقامات پر تاجروں نے دکانیں کھولیں جبکہ کچھ جگہوں پر لوگوں نے از خود سڑکوں سے رکاوٹیں بھی ہٹائیں۔

گزشتہ روز آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے مظفرآباد میں امن مارچ کا انعقاد کیا۔ اس دوران ایکشن کمیٹی اور امن مارچ کے شرکا آمنے سامنے آگئے۔

جب دونوں اطراف سے شرکا آمنے سامنے ہوئے تو پتھراؤ کے ساتھ فائرنگ بھی ہوئی جس دوران ایک شہری جاں بحق ہوگیا، جس کا الزام ایکشن کمیٹی اور امن مارچ کے شرکا ایک دوسرے پر لگا رہے ہیں۔ تاہم مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق نے اس کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے علاقے بٹل میں ایکشن کمیٹی نے ایمبولینس کو راستہ دینے سے انکار کردیا جس کے باعث بزرگ شہری اسپتال نہ پہنچ سکا اور وہیں دم توڑ گیا۔

’پلان بی کا اعلان آج کیا جائےگا‘

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر نے گزشتہ روز مظفرآباد میں احتجاج کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ ہمارا پلان اے کامیاب رہا ہے، ہم پلان بی کا اعلان منگل کو دن 2 بجے کریں گے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیے گئے لاک ڈاؤن کے باعث ریاست میں غذائی قلت کا خدشہ ہے۔ تمام انٹری پوائنٹس سے ٹریفک کو آگے نہیں جانے دیا جارہا جس کے باعث مال بردار گاڑیاں پاکستان کی حدود میں رکی ہوئی ہیں اور ان پر لوڈ سامان خراب ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 2 اہم مطالبات کون سے ہیں؟

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں 2 اہم مطالبات، مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کا خاتمہ اور اشرافیہ کی مراعات میں کمی ہے۔

کچھ روز قبل وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر امور کشمیر امیر مقام اور طارق فضل چوہدری نے مظفرآباد جا کر ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے مذاکرات کیے اور 36 مطالبات تسلیم کرلیے لیکن ایکشن کمیٹی صرف 2 نکات کی بنیاد پر مذاکرات سے بھاگ گئی جس کے باعث بات چیت کا عمل سبوتاژ ہوگیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کو کیا پیغام بھیجا؟

اتوار کے روز لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اطلاعات آزاد کشمیر و رہنما مسلم لیگ ن مشتاق منہاس نے کہا تھا کہ میری وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ وطن واپس پہنچ کر ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے خود مذاکرات کریں گے۔

مشتاق منہاس کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ یہ احتجاج منسوخ ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ انڈیا میں اس کی بنیاد پر پروپیگنڈا کیا جائے گا۔

دوسری جانب وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کا دعویٰ ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی حمایت حاصل ہے، ان لوگوں کو عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں بلکہ ریاست میں افراتفری پھیلانا ان کا اصل مقصد ہے۔

ہم جائز مطالبات حل کرنے کے لیے تیار ہیں، وزیر امور کشمیر

گزشتہ روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر امور کشمیر انجینیئر امیر مقام نے کہا کہ ہم جائز مطالبات حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایکشن کمیٹی لوگوں کو مشکلات میں ڈالنے کے بجائے بات چیت کرے۔

انہوں نے کہاکہ ہم آزاد کشمیر گئے اور وہاں جا کر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیے۔ ہم نے ساری رات بیٹھ کر بات چیت کی اور جو مطالبات قابلِ قبول ہیں انہیں تسلیم کر لیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر کی اسمبلی میں مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے جیسے مطالبات سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا جبکہ لاک ڈاؤن کا نقصان بھی کشمیری عوام کو ہی ہو رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ آزاد جموں و کشمیر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے رٹ قائم رکھے۔

’آزاد کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل‘

آزاد جموں و کشمیر میں اتوار کی شام سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں جس کے باعث لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

ترجمان پی ٹی اے کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایات پر آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروسز کو بند کیا گیا ہے۔

ایکشن کمیٹی کی ماضی کی کامیابیاں کون سی ہیں؟

ایکشن کمیٹی نے اس سے قبل بھی آزاد کشمیر میں احتجاج کرکے اپنے مطالبات منوائے ہیں۔ مئی 2024 میں ہونے والے ایک احتجاج کے نتیجے میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا تھا جس کے لیے حکومت پاکستان نے 23 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ جاری کی تھی۔

اس وقت آزاد کشمیر میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی 3 روپے فی یونٹ ہے جبکہ 40 کلو آٹا 2 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔

آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کا ایکشن کمیٹی سے اعلان لاتعلقی

آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، مسلم کانفرنس، پاکستان پیپلز پارٹی، جموں و کشمیر پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی نے اپنے کارکنوں کو ہدایات دے رکھی ہیں کہ وہ ایکشن کمیٹی سے دور رہیں جبکہ پی ٹی آئی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی حمایت کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر احتجاج جوائنٹ ایکشن کمیٹی مراعات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جوائنٹ ایکشن کمیٹی مراعات جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے جس کے باعث گزشتہ روز کے لیے نے کہا

پڑھیں:

لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر

لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3  سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘

ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔

حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔

شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔

واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش پانی زیر آب لاہور

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ