عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی ناکامی پر پرتشدد چہرہ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
ذرائع کا کہنا تھا کہ مسلح شرپسند عناصر نے پرامن احتجاج کے نام پر اسلحے کا استعمال بھی کیا، زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا، پرتشدد کارروائیوں میں ملوث شر پسندوں کو قانونی عمل کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی ناکامی پر پرتشدد چہرہ بے نقاب ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کی عوام نے عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج مسترد کر دیا، احتجاج کی ناکامی پر عوامی ایکشن کمیٹی کے شر پسندوں نے پُر امن شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پُر تشدد احتجاج کے دوران متعدد شہری زخمی ہوئے، ہڑتال کی ناکامی کی وجہ سے شر پسند عناصر نے پرتشدد کارروائیاں شروع کردیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ مسلح شرپسند عناصر نے پرامن احتجاج کے نام پر اسلحے کا استعمال بھی کیا، زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا، پرتشدد کارروائیوں میں ملوث شر پسندوں کو قانونی عمل کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عوامی ایکشن کمیٹی کے کی ناکامی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔