ڈی جی آئی ایس پی آر کا آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی سیاست پر طلبا کو مفصل جواب
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں سیاسی سسٹم کام کررہا ہے اور اگر ریاست ٹیکس نہیں لے گی تو مراعات اور تنخواہیں کیسے ادا کی جائیں گی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے آزاد کشمیر کے علاقے پلندری میں مختلف جامعات کے ایک ہزار طلبا اور اساتذہ سے گفتگو کی اور اُن کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر سے عوامی ایکشن کمیٹی کی توڑ پھوڑ اور انتشاری سیاست پر سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی سسٹم ہے جو کام کر رہا ہے اور یہاں کے تمام اعشاریے بشمول تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر بہت بہتر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ریاست ٹیکس نہیں لے گی تو مراعات اور تنخواہیں کیسے دے گی، آزاد کشمیر کے 30 فیصد سے زائد لوگ سرکاری ملازم ہیں، احتجاج سب کا حق ہے مگر انتشار سے معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔
احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اللہ نے کشمیر کو بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہے ، پاکستان کا خواب دیکھنے والے کا تعلق بھی کشمیر سے تھا اور آج بھی فوج میں متعدد آفیسرز اور جوان کشمیری ہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کا مستقبل "کشمیر بنے کا پاکستان" ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس پی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔