آزاد کشمیر میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آج ریاست بھر میں ہڑتال ہے، جس کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جگہ جگہ سے راستے بند کیے ہوئے ہیں، آزاد کشمیر کے علاقے بٹل میں ایمبولینس کو راستہ نہ دینے پر شہری اسپتال نہ پہنچ سکا اور راستے میں ہی دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی کال پر ہڑتال، مسلم کانفرنس کے امن مارچ پر فائرنگ سے 11 افراد زخمی

اس کے علاوہ مظفرآباد میں ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر کی جانب سے مسلم کانفرنس کے امن مارچ پر فائرنگ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں 11 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

????آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے انتشاری احتجاج کو امن مارچ نے شکست دے دی
آزاد کشمیر کے شہریوں نے انتشاری احتجاج کا حصہ بننے کی بجائے پاکستان کا جھنڈا اٹھاکر امن مارچ کا حصہ بننے کو ترجیح دی ہے۔

#FailedActionCommittee pic.

twitter.com/QJP6M8gCOQ

— سید عدنان بادشاہ ???????? (@syed_bacha) September 29, 2025

ذرائع کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان نے نہ صرف سڑکیں بند کیں بلکہ پولیس اہلکاروں پر غلیلوں اور ہتھیاروں سے حملے بھی کیے۔ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ کمیٹی کے عزائم ابتدا سے ہی اشتعال انگیز اور پرتشدد تھے۔

علاقے کے عوام نے بزرگ شہری کی موت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا اور عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں زبردستی ہٹا دیں۔

ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی ریلیوں میں اشتہاری مجرمان بھی موجود ہیں، جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ شرپسندوں اور کمیٹی کے لیڈران کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے میدان میں نکل چکی ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ آزاد کشمیر میں افراتفری پھیلانے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، اور ان لوگوں کو ’را‘ کی جانب سے فنڈنگ کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی کال پر ہڑتال، انٹرنیٹ سروسز معطل، نظام زندگی مفلوج

کچھ روز قبل وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر امور کشمیر امیر مقام اور طارق فضل چوہدری مظفرآباد پہنچے تھے جہاں انہوں نے ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے مذاکرات کیے، اور 38 میں سے 36 مطالبات تسلیم بھی کرلیے، لیکن اس کے باوجود ایکشن کمیٹی مذاکرات سے بھاگ گئی اور بات چیت کے عمل کو سبوتاژ کردیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی احتجاج ایمبولینس راستہ شرپسندی شہری دم توڑ گیا فائرنگ وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایکشن کمیٹی احتجاج ایمبولینس راستہ شہری دم توڑ گیا فائرنگ وی نیوز عوامی ایکشن کمیٹی ایکشن کمیٹی کے ایکشن کمیٹی کی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف