پرامن شہریوں پر حملے اور پرتشدد احتجاج، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا اصل چہرہ سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بظاہر عوامی حقوق کے نام پر تحریک چلانے کی دعویدار ہے، تاہم آج ہونے والے احتجاج میں ان کا حقیقی چہرہ سامنے آگیا ہے۔
آج ہونے والی احتجاجی کال کو ناکام دیکھتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسندوں نے پرامن شہریوں پر حملے کیے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی کال پر ہڑتال، مسلم کانفرنس کے امن مارچ پر فائرنگ سے 11 افراد زخمی
ذرائع کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پُرتشدد مظاہرے کے دوران متعدد شہری زخمی ہو گئے، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پُرامن احتجاج کا روپ دھار کر مسلح شرپسندوں نے ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا۔ حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ہے کہ پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث شرپسندوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کو عوام نے مسترد کر دیا
عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے بند کیے گئے راستوں کو عوام نے کھولنا شروع کر دیا
29 ستمبر کی کال فلاپ
عوام نے ایکشن کمیٹی کا ساتھ چھوڑ دیا
نیلم اٹھ مقام میں معمولات زندگی رواں دواں دیکھیے اٹھ مقام بازار کے تازہ ترین مناظر… pic.
— Pakiza Khan (@PakizaKhanpk) September 29, 2025
حکومت کی جانب سے پہلے ہی آٹا اور بجلی پر سبسڈی دی جارہی ہے، جس کے بعد مزید مطالبات سامنے لاتے ہوئے ہڑتال کا راستہ اختیار کرنے کے پیچھے سیاسی مقاصد کار فرما ہیں۔
حکومت کی جانب سے ریلیف کے بعد بھی بار بار احتجاج کرنے سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں کہ آیا کمیٹی واقعی عوام کے لیے کام کر رہی ہے یا کسی بیرونی ایجنڈے پر عمل کررہی ہے۔
کمیٹی کی قیادت میں واضح تقسیم یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ تحریک اجتماعی عوامی مفاد کے بجائے ذاتی ایجنڈوں پر مبنی ہے۔
جب قیادت آپس میں متفق نہ ہو، ایک رہنما اشتعال انگیزی کرے اور دوسرا مذاکرات کی بات کرے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی مشترکہ یا خلوص پر مبنی وژن موجود نہیں۔
عوام کی جانب سے ہڑتال میں شامل ہونے کے بجائے پاکستان کے پرچم کے ساتھ پرامن مارچ کا انتخاب ان کے حب الوطنی کے جذبے کا ثبوت ہے۔
آزاد کشمیر کی تمام سیاسی قوتوں نے متفقہ طور پر کمیٹی سے خود کو علیحدہ کرلیا، جو اس بات کا اظہار ہے کہ کمیٹی کا ایجنڈا تباہ کن ہے۔
آزاد کشمیر میں پاکستان کی فورسز کو غیر ملکی قرار دینا بھارتی پروپیگنڈے کی بازگشت ہے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام اور پاک فوج کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوششیں صرف دشمن قوتوں کے مقاصد کی تکمیل کے لیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی کال پر ہڑتال، انٹرنیٹ سروسز معطل، نظام زندگی مفلوج
ہڑتال کی مکمل ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ کمیٹی کے مطالبات غیر قانونی، اس کا ایجنڈا ریاست مخالف اور اس کی حکمت عملی عوام کی جانب سے مسترد شدہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اصل چہرہ بے نقاب پرتشدد احتجاج جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوامی حقوق وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اصل چہرہ بے نقاب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوامی حقوق وی نیوز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ایکشن کمیٹی کی کی جانب سے کی کال
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔