مسلم کانفرنس کی ریلی پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسندوں کی فائرنگ، 11 شہری زخمی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
مظفرآباد میں مسلم کانفرنس کی امن ریلی پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شر پسندوں نے حملہ کر دیا، مسلح شر پسندوں کی فائرنگ سے 11 شہری زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسندوں نے اپنے ناکام احتجاج کا غصہ عوام پر نکالنا شروع کر دیا۔
بٹل میں بھی عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شر پسندوں نے ایمبولینس کا راستہ روک لیا جس کی وجہ سے بزرگ شہری محمد صادق وفات پا گئے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شر پسند غلیلوں اور ہتھیاروں سے پولیس پر حملے بھی کر رہے ہیں، جو صاف ظاہر کرتا ہے کے عوامی ایکشن کمیٹی کے عزائم شروع سے شر پسندانہ تھے۔
علاقے کے عوام نے ایمبولینس روکے جانے پر غصے میں آ کر عوامی ایکشن کمیٹی کی کھڑی رکاوٹیں اٹھا کر پھینک دیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی ریلی میں اشتہاریوں کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہلڑ بازی اور درندگی کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شر پسندوں اور لیڈران کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شر
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔