اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کا متنازع بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
اسرائیلی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی نے ایک متنازع بل کی منظوری دے دی جس کے تحت اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دی جا سکے گی۔ یہ بل “دہشت گردوں کے لیے سزائے موت کے عنوان سے پیش کیا گیا، جسے 1 کے مقابلے میں 4 ووٹوں سے منظور کر کے مکمل ووٹنگ کے لیے آگے بھیج دیا گیا۔
کمیٹی کے قانونی مشیر کے مطابق یہ ووٹنگ پارلیمانی چھٹی کے دوران ہوئی، اس لیے اس کی قانونی حیثیت مشکوک ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی حکام کی غیر موجودگی اور بل پر ناکافی بحث پر بھی اعتراضات اٹھائے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم کے قیدیوں سے متعلق امور کے نمائندے گال ہرش نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس قانون سے غزہ میں قید اسرائیلی شہریوں کی رہائی کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ یاد رہے، یہ بل ماضی میں بھی انہی خدشات کے باعث مسترد کیا جا چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔