ٹرمپ کا غزہ پلان، جماعت اسلامی نے شہباز شریف کی تائید کو مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم پاکستان کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ وزیراعظم کے غزہ اور ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق بیان کو کسی صورت قبول نہیں کرتے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستانی قوم کی مرضی کے بغیر کوئی بھی شخصیت کیسے ڈونلڈ ٹرمپ کو رضا مندی دے سکتی ہے؟۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کیلئے 20 نکاتی پلان پر وزیراعظم کی تائید کو جماعت اسلامی نے مسترد کر دیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم پاکستان کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ وزیراعظم کے غزہ اور ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق بیان کو کسی صورت قبول نہیں کرتے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستانی قوم کی مرضی کے بغیر کوئی بھی شخصیت کیسے ڈونلڈ ٹرمپ کو رضا مندی دے سکتی ہے؟۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق جس کی سر زمین پر قبضہ ہو تو وہ اس کیخلاف مسلح جدوجہد کر سکتی ہے، دنیا کی کوئی بھی طاقت زور زبردستی سے ایک قوم کا یہ حق نہیں چھین سکتی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امن معاہدے کے نام پر ایسی کوئی بھی دستاویز جو 66 ہزار فلسطینیوں کی لاشوں پر دی جا رہی ہے، اس کی تحسین کرنا ظالموں کیساتھ کھڑے ہونے کے برابر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے امیر جماعت اسلامی ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔