data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف تبلیغ، درس و تدریس کے لیے نہیں بھیجا گیا، باطل نظام کو بدل کر اسلام کا عادلانہ نظام قائم کرنا آپ کا مشن تھا اور آج بھی ہے۔ جماعت اسلامی اسی مشن کے لیے جدو جہد کر رہی ہے ،پاکستان میں عوام کی رائے کو کچلا گیا ہے ،ملک میں رائج نظام ظالمانہ اور استحصالی ہے۔ میڈیا اور عدالتیں بھی آزاد نہیں ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو آزادی 1400 سال پہلے ہی آئیڈیل صورت میں عطا کردی تھی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے
جماعت اسلامی ضلع وسطی کے تحت نارتھ ناظم آباد بلاک ڈی میںسیرت النبی ؐکانفرنس بعنوان ’’عہد رسالت میں انسانی حقوق، آزادی اور انصاف- آج کے تقاضے‘‘ سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ کانفرنس سے معروف اسکالر مفتی منیب الرحمن، امیر تنظیم اسلامی شجاع الدین شیخ، امیر جماعت اسلامی ضلع وسطی سید وجیہہ حسن اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ شکیل خان نے نظامت کی، ایاز صدیقی نے نعت رسول مقبول ؐپیش کی۔ کانفرنس میں خواتین سمیت شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔اسامہ رضی نے مزید کہا کہ حالیہ پاک سعودی معاہدے اور ابراہام اکارڈ میں کیا تعلق ہے، ابھی یہ واضح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک خصوصاً نوجوانوں نے آمریت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا ہے۔ ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ملک میں مسئلے کی جڑ کو سقوط ڈھاکہ کے وقت اور 1977ء کی تحریک کی ناکامی کے بعد بھی سمجھا نہیں جاسکا، لیکن آج عوام اس جڑ کو پہچان چکے ہیں۔ 78 سال سے عوام کو جو کچھ دکھایا اور بتایا جا رہا ہے، دینی حلقوں کو چاہیے کہ اسے گہری نظر سے دیکھ کر لائحہ عمل بنائیں۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ عوام حکمرانوں کو اچھی طرح جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ عملی زندگی میں کس کی مانتے ہیں، قانون کس کی مرضی پر بناتے ہیں۔ قادیانیوں کو پاکستان کا آئین تسلیم کرنا ہوگا جس میں انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ انہیں اقلیتوں کے حقوق دیے جائیں جس طرح دیگر اقلیتوں کو حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت یکم جنوری 2028ء تک سودی نظام کا مکمل خاتمہ ہونا ہے لیکن فی الحال بینکوں میں اس حوالے سے کوئی سرگرمی نہیں ہے بلکہ حکومت عالمی بنک سے سودی قرض کا 20 سالہ معاہدہ کرنے جا رہی ہے، اس کی نیت کے خلوص کے آثار نہیں ہیں۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ اسلام حقوق سے زیادہ فرائض پر زور دیتا ہے۔ نفاذ شریعت کا مطالبہ اسی طرح تحریک بنا کر کیا جائے جس طرح ختم نبوت تحریک کے موقع پر کیا گیا تھا۔ بد قسمتی سے پاکستان میں ہر بچہ سوا تین لاکھ روپے کا مقروض پیدا ہوتا ہے۔ سید وجیہ حسن نے کہا کہ ملک میں نظام انصاف کا یہ حال ہے کہ ججز انصاف کی دہائی دینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ عوام کا کیا حال ہو رہا ہوگا؟ دوسری طرف خاص لوگوں کے لیے عدالتیں رات کو کھل جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں دس کروڑ مفلس روز بھوکے سوتے ہیں۔ حالات وہاں پہنچ چکے ہیں کہ اکثریت کا گزارہ مشکل ہے۔ علمائے کرام رہنمائی کریں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۃ کی روشنی میں حالات کس طرح بدلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے معاملے پر پوری امت بے بس اور حکمران بے حس ہیں۔ افسوس، ہمارے حکمران اس ٹرمپ کو نذرانے پیش کر رہے ہیں جو غزہ کی بربادی میں پوری طرح سے شریک جرم ہے۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری