سندھ ہائیکورٹ میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے کراچی میں شہری کی ٹارگٹ کلنگ کے کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے تینوں ملزمان کی ضمانت منظور کر لی گئی۔ عدالت نے ملزمان کو فی کس 3-3 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ ہائیکورٹ نے ٹارگٹ کلنگ کیس میں 3 مبینہ را ایجنٹس کی ضمانت منظور کر لی۔ سندھ ہائیکورٹ میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے کراچی میں شہری کی ٹارگٹ کلنگ کے کیس کی سماعت ہوئی، ملزمان میں طلعت اقبال، شیراز اور صبغت اللہ کی ضمانت منظور کر لی گئی۔ عدالت نے ملزمان کو فی کس 3-3 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ ملزمان کے وکیل عمران میو نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے پہلے کیس اے کلاس کردیا گیا تھا، ملزمان 2022ء سے جیل میں ہیں، کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں۔

پراسیکیوشن نے مؤقف اپنایا کہ ملزمان کو شہری شاہد غنی کے قتل کے لئے ٹارگٹ بیرون ملک ہینڈلرز نے دیا تھا، را ایجنٹس کو دہشتگردی کے لیے فنڈز بھی بیرون ملک ہینڈلرز نے فراہم کئے۔ دوران سماعت پراسیکیوشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بیرون ملک را ایجنٹ کے کوڈ نام باس اور عہدہ فرسٹ کمانڈ ہے، دوسرے را ایجنٹ کا کوڈ نام نانا پت سرینہ اور عہدہ سیکنڈ کمانڈ ہے، ملزمان کے خلاف بارودی مواد، غیر قانونی اسلحہ اور دہشتگردی کے لیے فنڈنگ کے مقدمات بھی درج ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی ضمانت منظور سندھ ہائیکورٹ ٹارگٹ کلنگ کے لیے

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا