دنیا بھر میں شارکس کی لائیو ٹریکنگ: نئی ایپ نے سب کو حیران کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سمندر کی پُراسرار اور خطرناک مگر دلچسپ مخلوقات میں سب سے نمایاں شارکس ہیں، جنہیں صدیوں سے انسان حیرت اور خوف کے ساتھ دیکھتا آیا ہے۔
اب جدید ٹیکنالوجی نے ان سمندری دیووں کو پہلے سے کہیں زیادہ قریب کردیا ہے۔ ماہرین نے ایک ایسی موبائل اور ویب ایپ تیار کی ہے جو دنیا بھر میں شارکس کی لائیو لوکیشن فراہم کرتی ہے اور صارفین کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ سمندری حیات کے سفر اور حرکات کو نقشے پر حقیقی وقت کے قریب ترین انداز میں دیکھ سکیں۔
اس ایپ کا نام OCEARCH ہے جو ایک غیر منافع بخش عالمی ادارہ ہے اور یہ خاص طور پر شارکس سمیت دیگر سمندری جانوروں کی تحقیق اور تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔
اس کمپنی کا تیار کردہ ’’گلوبل شارک ٹریکر‘‘ سادہ مگر دلکش ویب میپ اور موبائل ایپ کی شکل میں دستیاب ہے، جہاں صارف ہر ٹیگ شدہ شارک کا نام، نسل، پروفائل اور تازہ ترین مقام دیکھ سکتا ہے۔ یہ مقام نقشے پر پوائنٹس کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جبکہ ساتھ ساتھ ان کے سفر کی لائنیں بھی کھینچی جاتی ہیں، تاکہ صارف ان کی ہجرت اور روزمرہ نقل و حرکت کو سمجھ سکے۔
ایپ کی کامیابی کا راز اس میں استعمال ہونے والے جدید ٹیگز ہیں۔ سب سے اہم سیٹلائٹ ٹیگز ہیں جو شارک کے ڈورسل فن پر لگائے جاتے ہیں۔ جیسے ہی شارک سطح پر آتی ہے، یہ ٹیگز سگنل کو سیٹلائٹ تک پہنچاتے ہیں اور یوں چند لمحوں میں اس کی لوکیشن ایپ پر ظاہر ہوجاتی ہے۔
اس کے علاوہ پاپ اپ سیٹلائٹ آرکائیول ٹیگز بھی استعمال کیے جاتے ہیں جو نہ صرف مقام بلکہ درجہ حرارت، سمندری بہاؤ اور گہرائی کا ڈیٹا جمع کرکے سیٹلائٹ کے ذریعے تحقیق کاروں تک پہنچاتے ہیں۔
ایکوسٹک ٹیگز بھی اس نظام کا حصہ ہیں جو یا تو اندرونی یا بیرونی طور پر شارک پر لگائے جاتے ہیں۔ جب یہ شارک کسی ایسے علاقے میں داخل ہوتی ہے جہاں سمندری ریسیورز نصب ہیں تو اس کی موجودگی ریکارڈ ہوجاتی ہے۔
اس طرح محققین کو نہ صرف شارکس کی موجودگی بلکہ ان کی ہجرت کے پیٹرنز، رہائش کے اہم مقامات اور موسمی رویوں کے بارے میں بھی قیمتی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی دنیا بھر کے محققین اور ماہرینِ ماحولیات کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ اس سے سمندری حیات کو درپیش خطرات کو سمجھنے اور ان کے تحفظ کی پالیسیوں کو مزید مؤثر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
عام صارفین کے لیے یہ ایپ ایک دلچسپ تجربہ ہے، کیونکہ وہ پہلی بار شارکس کی حقیقی دنیا میں زندگی کے قریب تر انداز میں جھلک دیکھ پاتے ہیں۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ اوشیئرچ کی یہ کاوش سمندر کی گہرائیوں کو ہمارے موبائل اسکرین تک لے آئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شارکس کی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔