علیمہ خان کو پارٹی سربراہ بنانے کی مہم چلائی جارہی ہے، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ پارٹی میں مایوسی پھیلانے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
علی امین گنڈا پور کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے عمران خان کو کہا کہ آپ کی رہائی کے بجائے پارٹی میں اختلافات کو ہوا دی جا رہی ہے۔
گنڈا پور نے کہا کہ ویلاگر اختلافات بڑھا رہے ہیں اور علیمہ خان ان ویلاگران کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں بجائے اس کے کہ انہیں روکا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حفیظ اللہ نیازی ایسے مضامین لکھ رہے ہیں جن میں علیمہ خان کے نام کے ساتھ ’وزیراعظم‘ اور ’چیئرمین‘ لکھا جا رہا ہے، اور ایک مہم چلائی جا رہی ہے کہ علیمہ خان کو پارٹی کا چیئرمین بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پارٹی میں گروہ بندی ہورہی ہے اور ذاتی مفادات کے لیے کام کیا جا رہا ہے، اور انہوں نے موجودہ صورتِ حال کے حقائق بانیِ پی ٹی آئی کو بتا دیے۔
علی امین گنڈا پور نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے، اور یاد دہانی کرائی کہ اگر ہم بجٹ پیش نہ کرتے تو قانونی طور پر نااہل ہو سکتے تھے اور حکومت ختم ہو سکتی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور علیمہ خان انہوں نے کہا کہ رہا ہے رہی ہے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ