امریکی نژاد خاتون کے چار ماہ سے لاپتا بچوں کی بازیابی کیلئے راولپنڈی پولیس کو 16 اکتوبر تک مہلت
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ میں امریکی نژاد پاکستانی خاتون کے چار ماہ سے لاپتہ کم عمر بچوں کی بازیابی سے متعلق کیس میں راولپنڈی پولیس کو بچوں کی بازیابی کے لیے 16 اکتوبر تک مہلت دے دی۔جسٹس محمد آصف نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو پہلے بھی کافی وقت دیا جا چکا ہے، اب عدالت حکم جاری کرے گی۔سماعت کے دوران بچوں کی والدہ آبدیدہ ہوگئیں اور عدالت کو بتایا کہ چار ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو بچوں سے ملاقات ہوئی اور نہ ہی بچے بازیاب ہوئے۔خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ پولیس کو متعدد بار آگاہ کر چکی ہیں کہ بچے واہ کینٹ میں موجود ہیں اور ان کے آنے جانے کی معلومات بھی دستیاب ہیں، تاہم پولیس تعاون نہیں کر رہی۔پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ بچوں کی بازیابی کیلئے بی-17 اور واہ کینٹ میں چھاپے مارے مگر بچے اور ان کے والد برآمد نہیں ہو سکے۔ پولیس افسر نے مزید کہا کہ اگر خاتون اپنے دیور اور سسر کے خلاف درخواست دیں تو بچوں کی جلد بازیابی ممکن ہو سکتی ہے۔جسٹس محمد آصف نے وکیلِ درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ درخواست جمع کرا دیں، عدالت دو ہفتوں کی مہلت دے رہی ہے۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ بچوں کی بازیابی کی کوششیں جاری ہیں۔عدالت نے واضح کیا کہ پہلے بھی وقت دیا جا چکا ہے، اب دو ہفتوں بعد حکم جاری کیا جائے گا۔ کیس کی مزید سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بچوں کی بازیابی پولیس کو
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔