4 اکتوبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں ایک سال بعد گرفتار پی ٹی آئی کارکن کا جسمانی ریمانڈ منظور
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں 4 اکتوبر کے احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف درج مقدمے میں ایک سال بعد گرفتار ہونے والے کارکن راجہ ظہیر کو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ کیا یہ مقدمے میں اشتہاری تھے؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ راجہ ظہیر ایف آئی ار میں نامزد ہے ہمیں اس کا ریمانڈ چاہیے۔
جج طاہر عباس سپرا نے پوچھا کہ راجہ صاحب آپ اتنے عرصے سے کہاں تھے؟ کارکن پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ مجھے کوئی علم نہیں تھا میں تو تھانہ میں درخواست دینے گیا تھا تو مجھے بند کر دیا۔
پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکن کے 8روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، عدالت نے گرفتار پی ٹی آئی کارکن کو چار دن کے لئے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
راجا ظہیر کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔